حقیقة المہدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 495 of 550

حقیقة المہدی — Page 495

حقیقت و اہمیت دعا دعا او راس میں داخل امور ۲۳۰ دعا تبھی دعا ہوگی جب اس کے اندر ایک قوت کشش ہو ۲۴۱ نزول بلا پر طبعًا دعا کی طرف مائل ہونے کے متعلق مثال ۲۳۳ اصل مطلب دعا سے اطمینان اور تسلی پانا ہے ۲۳۷ اس اعتراض کا جواب کہ دعا سے مراد عباد ت ہے ۲۴۱ دعا سے انکار صفت رحیمیت سے انکار ہے ۲۴۴ انسان کا دعاکرنا اس کی انسانیت کا خاصہ ہے ۲۴۹ خاتمہ بالخیر انہی کا ہوتا ہے جو خدا سے ڈرتے اور دعا میں مشغول رہتے ہیں ۲۳۸ دعا سے فیض نازل ہوتا ہے جو کامیابی کا ثمرہ بخشتا ہے ۲۵۹ فرضیت دعا کے اسباب دعا کی فرضیت کے چار اسباب ۲۴۲ صفت رحیمیت دعا کی تحریک کرتی اور صفت مالکیت خشوع و خضوع پیدا کرتی ہے ۲۴۳ عارف ومحجوب کی دعا عارف کی دعا آداب معرفت کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے جب کہ محجوب کی دعافکر، غور اور طلب اسباب کے رنگ میں ظاہر ہوتی ہے اور ان کی تفصیل ۲۳۰ دعا کرنے اور نہ کرنے والے دعا کرنے والا تسلی پاتا اور دعا نہ کرنے والا ہمیشہ اندھا رہتا اور اندھا مرتا ہے ۲۳۷ دونوں میں ایمان وعرفان الٰہی کے لحاظ سے فرق ۲۴۰ اس اعتراض کا جواب کہ حال وقال سے دعا میں فناشخص مقاصد میں نامراد رہتا اور دعا اورخدا کا منکر فتح پاتا ہے ۲۳۷، ۲۳۸ دعا اور استجابت دعا اور استجابت اور ان کا باہمی رشتہ ۲۳۹، ۲۴۰ انبیاء کی قبولیت دعا کی مثالیں ۲۳۸ مسیح موعودؑ کی عربی میں کامل ہونے کی دعا اور اس کی قبولیت ۱۰۸ دنیا کی مشکلات کے لئے مسیح موعود ؑ کی قبولیت دعا ۴۰۷ خدا نے قبولیت دعا کو اپنی ہستی کی علامت ٹھہرایا ہے ۲۵۹ مقبول کی تمام رات کی دعا کب ردّ ہو سکتی ہے؟ ۱۶۵ح دعا کے نتائج اور تاثیر دعا سے خدا کا پہچانا جانا، الہام کا ملنا اور خدا سے ہم کلام ہونا اورخدا کا اپنے متلاشی پر تجلی کرنا ۳۳۹ دعا کے نتیجے میں دو طور سے نصرت الٰہی کا نزول ۲۴۲ قبولیت دعا ہستی باری کی علامت اور شناخت ہے ۲۶۰ دعا ہستی باری کے ثبوت کی دلیل ہے ۲۶۱ نماز کا مغز اور روح دعا ہی ہے ۲۴۱ دعا اور تدبیر تدبیر اور دعا میں تناقض نہیں ۲۳۱ تدبیرکے باوجود دعا کی حاجت وضرورت ۲۳۴ علم طب اور تدابیر ومعالجات ظنی ہیں سو دعا کی ضرورت ہے ۲۳۵ بہت سے اسباب جو صحت اور عدم صحت پر اثر ڈالتے ہیں ہمارے اختیار سے باہر ہیں جیسے پانی، ہوا ۲۳۶ دعا اور تقدیر یہ خیال کہ دعا کچھ چیز نہیں اور قضا بہر حال وقوع میں آتی ہے کا جواب ۲۳۲ح قضاء و قدر نے علوم کو ضائع نہیں کیا پس دواؤں کی طرح دعا میں بھی قوت ہے ۲۴۱ باوجود قضا وقدر جدوجہد سے ثمرہ مرتب ہوتا ہے اسی طرح دعا کی کوشش ضائع نہیں جاتی ۲۵۹ دین قصوں سے کوئی دین ثابت نہیں ہو سکتا ۴۰ فساد کے وقت تجدید دین کی عادت اللہ ۷۸ح رحم رحم کرو تا تم پر بھی رحم کیا جائے ۱۰۱ح خدا ڈرنے والوں پر رحم کرتا ہے سو اس سے ڈرو ۱۵۶ اس شخص سے زیادہ قابل رحم کون ہے جو سچائی اور راستی کی راہ کو چھوڑتا ہے ۱۹۵ رضا الٰہی کبھی ممکن نہیں خدا تم سے راضی ہو حالانکہ دل میں اس سے زیادہ کوئی عزیز ہو ۱۵۷