حقیقة المہدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 445 of 550

حقیقة المہدی — Page 445

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۴۵ حقيقت المهدى قدرت کی باتیں ہیں کہ کیا تھا اور کیا ہو گیا ۔ میں سجدہ میں ہی تھا کہ آنکھ کھل گئی ۔ قریباً اس وقت رات کے چار بج چکے تھے۔ فالحمد للہ علی ذالک ۔ میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ وہ ظالم طبع مخالف جو میرے پر خلاف واقعہ اور سراسر جھوٹ باتیں بنا کر گورنمنٹ تک پہنچاتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے خواب میں ایک پتھر کو بھینس بنا دیا اور اس کو لمبی اور روشن آنکھیں عطا کیں اسی طرح انجام کار وہ میری نسبت حکام کو بصیرت اور بینائی عطا کرے گا اور وہ اصل حقیقت تک پہنچ جائیں گے۔ یہ خدا کے کام ہیں اور لوگوں کی نظر میں عجیب۔ یہ شکر کی بات ہے کہ جن حکام کے ہم ماتحت کئے گئے ہیں وہ سچائی کے بھوکے اور پیاسے ہیں۔ اگر وہ غلطی کریں تو نیک نیتی سے غلطی کرتے ہیں ۔ اور اصل بات کی کھوج میں لگے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو مجھے الہام ہوئے وہ اسی رویا کے مؤید ہیں وہ بھی ذیل میں لکھتا ہوں تا کہ اس آخری وقت میں جب یہ باتیں پوری ہوں لوگوں کے ایمان قوی ہوں ۔ مگر میں نہیں جانتا کہ یہ کب پورا ہو گا اور کس کے ہاتھ پر پورا ہوگا اور اس کا وقت کون سا ہے۔ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ دھو کا جو ہمیشہ گورنمنٹ کو دیا جاتا ہے برقرار نہیں رہے گا اور آخر کار یہ ہوگا کہ حکام انصاف پسند خدا داد رؤیت اور بصیرت اور روشن ضمیری سے میرے اصل حالات پر مطلع ہو جائیں گے۔ تب اسی کے موافق جو میں نے دیکھا جو بغیر وسیلہ انسانی ہاتھوں کے خدا کی قدرت نے ایک پتھر کو ایک خوبصورت سفید رنگ بھینس بنا دیا اور اس کو نہایت روشن آنکھیں عطا فرمائیں۔ میری اصل حقیقت حکام پر کھل جائے گی۔ وہ گھڑی اور وہ دن خدا کو معلوم ہے۔ مگر جلد ہو یا دیر سے ہوگورنمنٹ عالیہ پر میری صفائی اور نیک چلنی اور گورنمنٹ کی نسبت کمال و فاداری ہر ایک شخص پر کھل جائے گی ۔ اور وہ خیالات جو میری نسبت مشہور کئے جاتے ہیں غلط ثابت ہوں گے۔ اور الہامات جو اس خواب کے موید ہیں یہ ہیں:۔