حقیقة المہدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 444 of 550

حقیقة المہدی — Page 444

روحانی خزائن جلد ۱۴ حقيقت المهدى سے مینہہ برس رہا تھا ایک رؤیا ہوا۔ یہ رویا ان کے لئے ہے جو ہماری گورنمنٹ عالیہ کو ہمیشہ میری نسبت شک میں ڈالنے کے لئے کوشش کرتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ کسی نے مجھے سے درخواست کی ہے کہ اگر تیرا خدا قادر خدا ہے تو تو اس سے درخواست کر کہ یہ پتھر جو تیرے سر پر ہے بھینس بن جائے۔ تب میں نے دیکھا کہ ایک وزنی پتھر میرے سر پر ہے جس کو بھی میں پتھر اور کبھی لکڑی خیال کرتا ہوں۔ تب میں نے یہ معلوم کرتے ہی اس پتھر کوزمین پر پھینک دیا۔ پھر بعد اس کے میں نے جناب الہی میں دعا کی کہ اس پتھر کو بھینس بنا دیا جائے ۔ اور میں اس دعا میں محو ہو گیا۔ جب بعد اس کے میں نے سراٹھا کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ پتھر بھینس بن گیا۔ سب سے پہلے میری نظر اس کی آنکھوں پر پڑی۔ اس کی بڑی روشن اور لمبی آنکھیں تھیں ۔ تب میں یہ دیکھ کر کہ خدا نے پتھر کو جس کی آنکھیں نہیں تھیں ایسی خوبصورت بھینس بنا دیا جس کی ایسی لہی اور روشن آنکھیں ہیں اور صورت۔ اور مفید جاندار ہے۔ خدا کی قدرت کو یاد کر کے وجد میں آگیا اور بلا توقف سجدہ میں گرا اور میں سجدہ میں بلند آواز سے خدا تعالیٰ کی بزرگی کا ان الفاظ سے اقرار کرتا تھا کہ ربی الاعلی ربی الاعلی اور اس قدر اونچی آواز تھی کہ میں خیال کرتا ہوں کہ وہ آواز دور دور جاتی تھی ۔ تب میں نے ایک عورت سے جو میرے پاس کھڑی تھی جس کا نام بھا نو تھا اور غالباً اس دعا کی اس نے درخواست کی تھی یہ کہا کہ دیکھ ہما را خدا کیسا قادر خدا ہے جس نے پتھر کو بھینس بنا کر آنکھیں عطا کیں۔ اور میں یہ اس کو کہہ رہا تھا کہ پھر یکدفعہ خدا تعالیٰ کی قدرت کے تصور سے میرے دل نے جوش مارا اور میرا دل اس کی تعریف سے پھر دوبارہ بھر گیا اور پھر میں پہلی طرح وجد میں آکر سجدہ میں گر پڑا۔ اور ہر وقت یہ تصور میرے دل کو خدا تعالیٰ کے آستانہ پر یہ کہتے ہوئے گراتا تھا کہ یا الہی تیری کیسی بلندشان ہے تیرے کیسے عجیب کام ہیں کہ تو نے ایک بے جان پتھر کو بھینس بنا دیا۔ اس کو لمبی اور روشن آنکھیں عطا کیں جن سے وہ سب کچھ دیکھتا ہے اور نہ صرف یہی بلکہ اس کے دودھ کی بھی امید ہے