حقیقةُ الوحی — Page 615
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۶۱۵ تتمه اس کے ہاتھ سے نکلی ہیں اور خدا اور روحوں میں رشتہ محبت کا بھی اسی وجہ سے ہے کہ یہ سب چیزیں اس کے ہاتھ سے نکلی ہوئی ہیں اور اُسی نے اُن کی فطرت میں اپنی محبت کا نمک چھڑ کا ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو عشق الہی محال تھا کیونکہ جانبین میں کوئی تعلق نہ تھا۔ بچہ ماں سے اسی وجہ سے محبت کرتا ہے کہ اس کے پیٹ سے نکلا ہے اور ماں بھی اسی وجہ سے اُس سے محبت کرتی ہے کہ اس کے جگر کا ٹکڑا ہے۔ پس چونکہ ہر ایک روح خدا کے ہاتھ سے نکلی ہے اس لئے اس محبوب حقیقی کی طلب میں ہے پھر غلطی سے کوئی بت پرستی کرتا ہے۔ کوئی سورج کو پوجتا ہے کوئی چاند کے آگے جھکتا ہے کوئی پانی کا پرستار ہے کوئی انسان کو خدا جانتا ہے۔ پس اس غلطی کی وجہ بھی اُس حقیقی محبوب کی طلب ہے جو انسان کی فطرت میں ہے جس طرح بچہ کبھی ماں کی طلب میں دھوکہ کھا کر کسی دوسری عورت سے چمٹ جاتا ہے اسی طرح تمام مخلوق پرست دھو کہ کھا کر دوسری چیزوں کی طرف جھک گئے ہیں۔ خدا (۴) کی شریعت ان غلطیوں کو دور کرنے کے لئے آئی ہے اور خدا کی شریعت وہی ہے جو اپنی پوری طاقت کے ساتھ ان غلطیوں کو دور کر سکتی ہے اور غلطیوں کو وہی شریعت دور کرے گی جو چمکتے ہوئے نشانوں کے ساتھ اُس محبوب حقیقی کا چہرہ دکھا دے گی کیونکہ اگر کوئی شریعت تازہ نشان دکھلانے پر قادر نہیں تو وہ بھی ایک بت پیش کرتی ہے نہ خدا کو ۔ وہ خدایا پر میشر نہیں ہو سکتا جو اپنے ظہور کے لئے ہماری منطق کا محتاج ہے اگر خدا ایسا ہی مردہ اور قدرت کی علامات سے محروم ہے جیسا کہ بت تو ایسے خدا کو کون عارف قبول کر سکتا ہے پس کچی اور کامل شریعت وہی ہے جو زندہ خدا کو اُس کی قدرتوں اور نشانوں کے ساتھ دکھلاتی ہے اور وہی ہے جس کے ذریعہ سے انسان شریعت کے دوسرے حصہ میں بھی کامل ہو سکتا ہے اور شریعت کا دوسرا ٹکڑہ یہ ہے کہ انسان اُن تمام گناہوں سے پر ہیز کرے جن کی جڑ بنی نوع پر ظلم ہے جیسے زنا کرنا ، چوری کرنا ، خون کرنا، جھوٹی گواہی دینا اور ہر ایک قسم کی خیانت کرنا اور نیکی کرنے والے کے ساتھ بدی کرنا اور انسانی ہمدردی کا حق ادا نہ کرنا۔ پس اس دوسرے حصہ شریعت کو حاصل کرنا بھی پہلے حصہ کے حصول پر موقوف ہے۔ اور ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ پہلا حصہ یعنی خدا شناسی کسی طرح ممکن نہیں جب تک خدا کو اُس کی تازہ قدرتوں اور تازہ نشانوں کے ساتھ شناخت نہ کیا جاوے ورنہ بغیر اس کے خدا پرستی بھی ایک بت پرستی ہے کیونکہ جبکہ خدا محض ایک بت کی طرح ہے جو سوال کا جواب نہیں دے سکتا اور نہ کوئی قدرت دکھلا سکتا