حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 614 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 614

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۶۱۴ بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي بخدمت آریہ صاحبان تتمه کوئی عقل مند اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ جو خدا کی طرف سے شریعت ہے اس کے قدیم سے دو ہی ٹکڑے ہوتے آئے ہیں۔ (۱) بڑا اور پہلا ٹکڑا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اُس کی تمام صفات کاملہ کے ساتھ واحد لاشریک مان لیا جائے اور اُس کی ذات اور صفات میں کوئی شریک نہ ٹھیرایا جائے اور اس بات پر ایمان لایا جائے کہ وہ مبدء ہے تمام فیوض کا اور سر چشمہ ہے تمام ظہورات کا اور خالق ہے ہر ایک وجود کا اور قادر ہے ہر ایک ایسے امر پر جو اُس کی عظمت اور شان اور جلال کے لائق ہے اور اس کے صفات کا ملہ کے منافی نہیں اور اول ہے ہر ایک موجود سے اور مرجع ہے تمام کائنات کا اور مجمع ہے تمام صفات کا ملہ کا اور پاک ہے اس سے کہ کسی وقت صفات اس کی بے کار ہو جا ئیں یا یہ کہ کسی وقت بے کار تھیں۔ وہ قدیم سے خالق اور قدیم سے رازق اور قدیم سے قادر ہے۔ کسی کو علم نہیں کہ پہلے اُس نے کیا کیا اور آگے کیا کیا کرے گا اُس کی قدرتوں پر کوئی محیط نہیں ہوسکتا اور وہ واحد ہے اپنی ذات میں اور اپنی صفات میں اور افعال میں اور اُس کی طرح کوئی بھی کسی خاص صفت سے مخصوص نہیں۔ اور پاک ہے ہر ایک عیب اور نقص سے اور نزدیک ہے باوجود ڈوری کے اور دور ہے باوجود نزدیکی کے۔ وہ برتر اور بلند ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نیچے کوئی اور بھی ہے۔ وہ پوشیدہ در پوشیدہ ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ ظاہر نہیں وہ اپنے ظہور میں سب سے زیادہ ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ پوشیدہ نہیں وہ آفتاب میں چمک رہا ہے اور چاند میں اس کے انوار ہیں مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ آفتاب ہے یا چاند ہے بلکہ یہ سب چیزیں اُس کی مخلوق ہیں اور کافر ہے وہ شخص جو اُس کو خدا کہے۔ وہ نہاں در نہاں ہے پھر بھی سب چیزوں سے زیادہ ظاہر ہے۔ ہر ایک روح کو اُسی سے قو تیں اور صفات ملی ہیں۔ ہر ایک ذرہ نے اُسی سے خواص پائے ہیں اور اگر وہ صفات اور قوتیں اور طاقتیں چھین لی جائیں تو پھر نہ روح کچھ چیز ہے اور نہ ذرہ کچھ حقیقت رکھتا ہے اس لئے انسان کی معرفت کا انتہائی نقطہ یہی ہے کہ یہ سب چیزیں