حقیقةُ الوحی — Page 582
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۸۲ تتمه ۱۴۴ میں مشغول رہا ہے اور وہی خوف ترقیات کا موجب ہوتا رہا ہے خدا فرماتا ہے۔ اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِب امن کے پس ہر ایک ابن آدم اپنے اندر ایک حیض کی ناپاکی رکھتا ہے مگر وہ جو سچے دل سے خدا کی طرف رجوع کرتا ہے وہی حیض اُس کا ایک پاک لڑکے کا جسم تیار کر دیتا ہے۔ اسی بنا پر خدا میں فانی ہونے والے اطفال اللہ کہلاتے ہیں لیکن یہ نہیں کہ وہ خدا کے در حقیقت بیٹے ہیں کیونکہ یہ تو کلمہ کفر ہے اور خدا بیٹوں سے پاک ہے بلکہ اس لئے استعارہ کے رنگ میں وہ خدا کے بیٹے کہلاتے ہیں کہ وہ بچہ کی طرح دلی جوش سے خدا کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ اسی مرتبہ کی طرف قرآن شریف میں اشارہ کر کے فرمایا گیا ہے فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ أَبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا یعنی خدا کو ایسی محبت اور دلی جوش سے یاد کرو جیسا کہ بچہ اپنے باپ کو یاد کرتا ہے۔ اسی بنا پر ہر ایک قوم کی کتابوں میں آب یا پتا کے نام سے خدا کو پکارا گیا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کو استعارہ کے رنگ میں ماں سے بھی ایک مشابہت ہے اور وہ یہ کہ جیسے ماں اپنے پیٹ میں اپنے بچہ کی پرورش کرتی ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ کے پیارے بندے خدا کی محبت کی گود میں پرورش پاتے ہیں اور ایک گندی فطرت سے ایک پاک جسم انہیں ملتا ہے۔ سو اولیاء کو جو صوفی اطفال حق کہتے ہیں یہ صرف ایک استعارہ ہے ورنہ خدا اطفال سے پاک اور لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ " ہے۔ اور یہ جو مذکورہ بالا الہامات میں فقرہ ہے فَقُلْنَا يَا نَارُكُوْنِی بَردًا اس فقرہ سے یہ مراد ہے کہ جو کچھ با بو الہی بخش نے اپنی کتاب سے لوگوں میں فتنہ کی آگ بھڑ کا دی ہے ہم اس آگ کو ٹھنڈی کر دیں گے۔ سو با بو الہی بخش کی موت نے ان تمام پیشگوئیوں کو پوری کر دیا ۔الحمدللہ علی ذالک۔ دوسری پیشگوئی با بو الہی بخش صاحب کی موت کے بارے میں وہ ہے جو ۱۵ مارچ ۱۹۰۷ ء میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو کر بدر اور الحکم میں شائع ہو چکی ہے اور وہ یہ ہے۔ ایک موسیٰ ہے میں اُس کو ظاہر کروں گا اور لوگوں کے سامنے اُس کو عزت دوں گا البقرة:٢٢٣ البقرة : ٢٠١ ٣ الاخلاص :۴