حقیقةُ الوحی — Page 511
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۱۱ تتمه حقيقة الوحى اب ظاہر ہے کہ ایسا نشان (جو فتح عظیم کا موجب ہے) جو تمام دنیا ایشیا اور امریکہ اور (۷۵) یورپ اور ہندوستان کے لئے ایک کھلا کھلا نشان ہو سکتا ہے وہ یہی ڈوئی کے مرنے کا نشان ہے کیونکہ اور نشان جو میری پیشگوئیوں سے ظاہر ہوئے ہیں وہ تو پنجاب اور ہندوستان تک ہی محدود تھے اور امریکہ اور یورپ کے کسی شخص کو اُن کے ظہور کی خبر نہ تھی لیکن یہ نشان پنجاب سے بصورت پیشگوئی ظاہر ہوکر امریکہ میں جا کر ایسے شخص کے حق میں پورا ہوا جس کو امریکہ اور یورپ کا فرد فرد جانتا تھا اور اُس کے مرنے کے ساتھ ہی بذریعہ تاروں کے اُس ملک کے انگریزی اخباروں کو خبر دی گئی چنانچہ پایونیر نے ( جوالہ آباد سے نکلتا ہے) پر چہ اامر مارچ ۱۹۰۷ ء میں اور سول اینڈ ملٹری گزٹ نے (جولاہور سے نکلتا ہے ) پر چہ ۱۲ مارچ ۱۹۰۷ء میں اور انڈین ڈیلی ٹیلیگراف نے (جو لکھنو سے لکھتا ہے ) پر چہ ۱۲ مارچ ۱۹۰۷ء میں اس خبر کو شائع کیا ہے۔ پس اس طرح پر قریباً تمام دنیا میں یہ خبر شائع کی گئی اور خود یہ شخص اپنی دنیوی حیثیت کی رو سے ایسا تھا کہ عظیم الشان نوابوں اور شاہزادوں کی طرح مانا جاتا تھا۔ چنانچہ وب نے جو امریکہ میں مسلمان ہو گیا ہے میری طرف اس کے بارہ میں ایک چٹھی لکھی تھی کہ ڈاکٹر ڈوئی اس ملک میں نہایت معززانہ اور شاہزادوں کی طرح زندگی بسر کرتا ہے۔ اور باوجود اس عزت اور شہرت کے جو امریکہ اور یوروپ میں اُس کو حاصل تھی خدا تعالی (21) حاشیه ڈوئی اس پیشگوئی کے بعد اس قدر جلد مرگیا کہ ابھی پند و اون ہی اس کی اشاعت پر گذرے تھے کہ ڈوئی کا خاتمہ ہو گیا پس ایک طالب حق کے لئے یہ ایک قطعی دلیل ہے کہ یہ پیشنگوئی خاص ڈوئی کے بارے میں تھی کیونکہ اول تو اس پیشگوئی میں یہ لکھا ہے کہ وہ فتح عظیم کا نشان تمام دنیا کے لئے ہوگا اور دوسرے یہ لکھا ہے کہ وہ عنقریب ظاہر ہونے والا ہے پس اس سے زیادہ عنقریب اور کیا ہوگا کہ اس پیشگوئی کے بعد بدقسمت ڈوئی اپنی زندگی کے ہیں دن بھی پورے نہ کر سکا اور خاک میں جاملا جن پادری صاحبان نے آتھم کے بارے میں شور مچایا تھا اب اُن کوڈوٹی کی موت پر ضرور غور کرنی چاہیے۔ مدہ