حقیقةُ الوحی — Page 446
تتمه حقيقة الوحى روحانی خزائن جلد ۲۲ يا لاعبى إِنَّ الْمُهَيْمَن يَنظر خَفْ قَهر ربِّ قادر مولایی اے مجھ کو لعنت کرنے والے خدا تجھ کو دیکھ رہا ہے اس خدا کے قہر سے خوف کر جو میرا قادر آقا ہے انی اراک تَمِيسُ بِالْخَيلاء أنسيـت يــوم الــطــعــنـة الـتـجلاء میں تجھے دیکھتا ہوں کہ ناز اور تکبر کے ساتھ تو چلتا ہے کیا تجھے وہ دن یاد نہیں آتا کہ جب تو طاعون زخم کر نیوالی کے ساتھ ہلاک ہو گا لَا تَتَّبِع أَهْوَاءَ نَفْسَكَ شقوَةً يُلْقِيْكَ حُبّ الـنـفـس في الحوقاءِ اپنی نفسانی خواہشوں کا بدبختی کی وجہ سے پیرومت بن تجھے تیرے نفس کی محبت کوئیں میں ڈالے گی فرس خبيث خَفْ ذُرَى صَهَواتِه خَفْ ان تزلك عدو ذى عَدْوَاءِ تیرانفس ایک خبیث گھوڑا ہے اس کی پیٹھ کی بلندی سے تو خوف کر اور تو اس بات سے ڈر کہ ناہموار چلنا اس کا تجھے زمین پر گرا دے إِنَّ السُّمُوْمَ لَشَرُّ مَا فِى العالم شَرَّ السُّمُوْمِ عَدَاوَةُ الصَّلحَاءِ جو کچھ دنیا میں ہے ان سب سے بد تر زہریں ہیں اور زہروں سے بدتر صلحا کی دشمنی اذَيْتَنِي خُبْتًا فَلَسْتُ بِصَادِقٍ إِنْ لَمْ تَمُتْ بِالخِزْيِ يَا ابْن بِغَاءِ تو نے اپنی خباثت سے مجھے بہت دکھ دیا ہے۔ پس میں سچا نہیں ہوں گا اگر ذلت کے ساتھ تیری موت نہ ہو الله يُخزى حِزْبَكُمْ ويُعِزّني حتـى يـجـي الـنـاس تـحْـتَ لِوَائِـي اور صرف تیری ذلت پر کچھ حصر نہیں خدا تجھے مع تیرے گروہ کے ذلیل کرے گا اور مجھے عزت دے گا یہاں تک کہ لوگ میرے جھنڈے کے نیچے آجائیں گے ياربَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا بِكَرَامَةِ يا مــن يـــى قلبـي ولـب لـحــائـى اے میرے خدا مجھ میں اور سعد اللہ میں فیصلہ کر یعنی جو کا ذب ہے صادق کے رو برواس کو ہلاک کر ۔ اے وہ علیم وخبیر جو میرے دل کو اور میرے اندر کی پوشیدہ باتوں کو دیکھ رہا ہے ہے يَا مَنْ ارى ابوابه مَفْتُوحةً لِلسَّائِلِيْنَ فَلا تَرُدَ دُعَائِي اے میرے خدا میں تیری رحمت کے دروازے دعا کرنے والوں کے لئے کھلے دیکھتا ہوں پس یہ جو میں نے سعد اللہ کے حق میں دعا کی ہے اس کو قبول فرما اور رد نہ کر یعنی میری زندگی میں ہی اس کو ذلت کی موت دے اور جیسا کہ میں نے ان تمام اشعار کے نیچے ہر ایک شعر کا ترجمہ کر دیا ہے ان کے پڑھنے سے ظاہر ہے کہ میں نے سعد اللہ سے ان اشعار میں مباہلہ کیا تھا اور جیسا کہ اُس نے اپنی کتاب شہاب ثاقب میں مباہلہ کے طور پر میری موت کو اپنی زندگی میں چاہا تھا اُس کے مقابل پر میں نے بھی اپنے سعد اللہ کی موت صرف ایک نشان نہیں بلکہ تین نشان ہیں (۱) اس کی موت کی نسبت میری پیشگوئی (۲) میری موت کی نسبت بطور مباہلہ اس کی پیشگوئی کہ گویا میں اُس کی زندگی میں ہی مر جاؤں گا (۳) اس کی موت کی نسبت میری دعا جو قبول ہوگئی ۔ منہ ۱۵