حقیقةُ الوحی — Page 363
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۶۳ حقيقة الـ في وجهنا نور المهيمن لائح ان كان فيـكـم نــاظر متوسم (۳۵۰) ہو ہے خدا کا نور روشن ہے اگر تم میں کوئی دیکھنے والا ہمارے منہ پر ماقلت يا عبد الحكيم بجنبنا الا كــخـــذف عــنــد سـيـف يـصـــرم اے عبد الحکیم تو نے ہمارے مقابل پر جو باتیں کی ہیں تو وہ ایک روڑہ کی طرح جو چلایا جاتاہے بمقابل اس تلوار کے وکالت ہے وَاللَّهِ لَا يُخْزى عزيز جنابه والله لا تُعطى العلاء وترجم بخدا که خدا تعالیٰ کا عزیز رسوا نہیں ہوگا اور بخدا کہ تو غالب نہیں ہوگا اور رڈ کیا جائے گا هذا مــن الـرحـمـن نبـاً مـحـكـم فــاسـمــع ويـأتـي وقـتــه الـمـتـحـتـم یہ خدا کی طرف سے خبر پختہ ہے محکم ہے پس سن رکھ اور اس کا قرار دادہ وقت آ رہا ہے والله يُنقَضُ كلّ خيط مكائد لين سحيل او شـــديـــد مــــرم اور بخدا ہر ایک مکر کا دھاگہ توڑ دیا جائے گا خواہ وہ نرم مکر ہے اور خواہ سخت مکر كفّــرومــا التكفير منك ببدعة رسم تقادم عهده المتقدم مجھے کافر کہہ اور کافر کہنا تیرا کوئی نئی بات نہیں ایک پرانی رسم قدیم چلی آتی ہے قد كُفّرت من قبل صحب نبينا قالوا لنام كفرةٌ و هُمْ هُمُ اس سے پہلے ہمارے نبی صلعم کے صحابہ کو لوگوں نے کافر ٹھہرایا اور کہا کہ یہ ٹیم اور کافر ہیں اور ان کی شان جو ہے سو ہے تب من كلام قلت واحفد تائبا والعفو خـلـقـى ايها المتوهم جو کچھ تو نے کہا ہے اُس سے توبہ کر اور میری طرف دوڑ اور بخشا میرا خُلق ہے اے وہموں میں گرفتار ان كنت تتمنى الوغا فَتُحارِبُ بارز فانی حاضر متخيّم اگر تو لڑنے کو چاہتا ہے پس ہم لڑیں گے باہر میدان میں آ کہ میں حاضر ہوں خیمہ لگائے ہوئے نطقی کسیف قاطع يُردى العدا قولى كــعــاليـة الـقـنـا او لهذم میں نطق تلوار کاٹنے والی کے مانند ہے جو دشمنوں کو ہلاک کرتی ہے بات میری نیزہ کی نوک کی طرح ہے یا لہذم کی طرح ہے كم من قلوب قد شققتُ غلافها كم من صدور قد كلمتُ واكلم بہت دل ہیں جن کے غلاف میں نے پھاڑ دئے بہت سینے ہیں جو میں نے مجروح کئے اور کرتا ہوں