حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 337 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 337

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۳۷ حقيقة الـ بعد اس کے شاید ایک دو ہفتہ ہی گذرے تھے کہ پھر مستری نظام الدین کا خط آیا جو بجنسہ (۳۲۴) ذیل میں لکھا جاتا ہے: بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ مسینا و مہدینا حضرت حجتہ اللہ علی الارض السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ اللہ تعالیٰ نے حضور کی خاطر پھر دوبارہ خاکسار پر رحم فرمایا اور اپیل فریق مخالف کی کمشنر صاحب لاہور نے نامنظور کر کے گل واپس کر دی فالحمد لله والمنة خاکسار دو ہفتہ کے اندر حضور کی قدم بوسی کے لئے حضور کی خدمت میں پچاس روپیہ نذرانہ جو پہلے مانا ہوا ہے لے کر حاضر ہوگا۔ حضور کا ناکارہ غلام خاکسار نظام الدین مستری شہر سیالکوٹ متصل ڈاک خانہ ۱۴۰۔ نشان۔ سردار خان برادر حکیم شاہ نواز خان جو ساکن راولپنڈی ہیں میری طرف لکھتے ہیں کہ ایک مقدمہ میں اُن کے بھائی شاہ نواز خان کی مع ایک فریق مخالف کے عدالت میں ضمانت لی گئی تھی جس میں حضرت صاحب سے یعنی مجھ سے بعد اپیل دعا کرائی گئی تھی اور ہر دو فریق نے اپیل کیا تھا۔ چنانچہ دعا کی برکت سے شاہ نواز کا اپیل منظور ہو گیا اور فریق ثانی کی اپیل خارج ہوگئی۔ قانون دان لوگ کہتے تھے کہ اپیل کرنا بے فائدہ ہے کیونکہ بالمقابل ضمانتیں ہیں یہ دعا کا اثر تھا کہ دشمن کی ضمانت قائم رہی اور شاہ نواز ضمانت سے بری کیا گیا۔ ۱۴۱۔ نشان۔ میاں نور احمد مدرس مدرسہ امدادی بستی در یام کملانہ ڈاک خانہ ڈب کلاں تحصیل شورکوٹ ضلع جھنگ کے متواتر خطوط میرے نام اس بارہ میں پہنچے تھے کہ اُن کے عزیز دوست مستمی قاسم و رستم و لعل وغیرہ پر ایک جھوٹا مقدمہ مسمی پٹھانہ کملانہ نے کیا ہوا ہے اور مقدمہ خطرناک ہو گیا ہے دعا کی جائے پس جبکہ کثرت سے ہر ایک خط میں عاجزانہ طور پر دعا کے لئے اُن کا اصرار ہوا تب میرے دل کو اس طرف توجہ ہوگئی کیونکہ میں نے واقعی طور پر ان کی حالت کو قابل رحم