حقیقةُ الوحی — Page 336
روحانی خزائن جلد ۲۲ ٣٣٦ حقيقة الوح ۳۲۳) اور خیر خواہی سے میری ترقی کے خواہاں تھے اور نتیجہ یہ ہوا کہ بغیر کسی عذ روحیلہ کے میری ترقی کے لئے رزولیوشن پاس ہو گیا فالحمد للہ علی ذالک۔ جناب من مبلغ پچاس روپیہ پرسوں کی ڈاک میں حضور والا میں اس خاکسار نے روانہ کئے ہیں قبول فرما دیں اور دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ آفات زمانہ سے محفوظ رکھے اور عاقبت نیک فرما دے۔ آمین عریضہ بندہ خاکسار سید ناصر شاہ اور سیر از مقام بارہ مولہ کشمیر ۱۳۹ نشان۔ ایک مرتبہ مستری نظام الدین نام ایک ہماری جماعت کے شخص نے سیالکوٹ اپنی جائے سکونت سے میری طرف خط لکھا کہ ایک خطر ناک مقدمہ فوجداری کا میرے پر دائر ہو گیا ہے اور کوئی سبیل رہائی معلوم نہیں ہوتی سخت خوف دامن گیر ہے اور دشمن چاہتے ہیں کہ میں اس میں پھنس جاؤں اور بہت خوش ہورہے ہیں اور میں نے اس وقت ظاہری اسباب سے نومید ہو کر یہ خط لکھا ہے اور میں نے اپنے دل میں نذر کی ہے کہ اگر میں اس مقدمہ سے نجات پا جاؤں تو مبلغ پچاس روپیہ خدا تعالیٰ کے شکریہ کے طور پر آپ کی خدمت میں ارسال کروں گا۔ تب وہ خط اُس کا کئی لوگوں کو دکھلایا گیا اور بہت دعا کی گئی اور اس کو اطلاع دی گئی چند دن گذرنے کے بعد اُس کا پھر خط مع پچاس روپیہ کے آیا اور لکھا کہ خدا نے مجھے اُس بلا سے نجات دی۔ پھر چند ہفتہ کے بعد ایک اور خطہ آیا جس میں لکھا تھا کہ سرکاری وکیل نے پھر وہ مقدمہ اُٹھایا ہے اس بنیاد پر کہ فیصلہ میں غلطی ہے اور صاحب ڈپٹی کمشنر نے ایڈوکیٹ کی بات قبول کر کے فیصلہ کو انگریزی میں ترجمہ کرا کر اور سفارش لکھ کر صاحب کمشنر بہادر کی خدمت میں بھیج دیا ہے اس لئے یہ حملہ پہلے سے زیادہ خطر ناک اور بہت تشویش دہ ہے اور میں نے اس حالت بے قراری میں پھر اپنے ذمہ یہ نذر مقرر کی ہے کہ اگر اب کی دفعہ میں اس حملہ سے بیچ جاؤں تو مبلغ پچاس روپیہ پھر بطور شکر یہ ادا کروں گا۔ میرے لئے بہت دعا کی جائے یہ خلاصہ دونوں خطوں کا ہے جن کے بعد دعا کی گئی۔