حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 308 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 308

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۰۸ حقيقة الوحى ۲۹۵) دیکھ رہا ہے وہ قادر ہے کہ بطور خود جھوٹے کو بچے کے رو برو ہلاک کر دے اور خدا کے نشان تو بارش کی طرح برس رہے ہیں اگر آپ طالب صادق ہیں تو قادیان میں میرے ساتھ چلیں جواب دیا کہ میری بیوی بیمار ہے میں جا نہیں سکتا اور شائد یہ جواب دیا کہ کسی جگہ گئی ہوئی ہے یاد نہیں رہا۔ میں نے کہا کہ اب بس خدا کے فیصلہ کے منتظر رہو پھر اُسی سال میں وہ فوت ہو گئے اور کسی حجرہ میں بند کئے جانے کی ضرورت نہ رہی پس یہ خوف کا مقام ہے کہ آخر عباس علی کا کیا انجام ہوا اور اس قدر ترقی کے بعد ایک ہی دم میں تنزل کے گڑھے میں پڑ گیا۔ اور اُس کے حالات سے یہ تجربہ ہوا کہ اگر کسی شخص کی نسبت خوشنودی کا بھی الہام ہو تو بسا اوقات خوشنودی بھی کسی خاص وقت تک ہوتی ہے یعنی جب تک کہ کوئی خوشنودی کے کام کرے جیسا کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں کافروں پر جابجا غضب ظاہر فرماتا ہے اور جب اُن میں سے کوئی مومن ہو جاتا ہے تو معاوہ غضب رحمت کے ساتھ بدل جاتا ہے اور اسی طرح کبھی رحمت غضب کے ساتھ بدل جاتی ہے اسی وجہ سے حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص بہشتیوں کے اعمال بجالاتا ہے یہاں تک کہ اس میں اور بہشت میں ایک بالشت کا فرق رہ جاتا ہے اور دراصل قضا و قدر میں وہ جہنمی ہوتا ہے تو آخر کار کوئی ایسا عمل یا کوئی ایسا عقیدہ اس سے سرزد ہو جاتا ہے کہ وہ جہنم میں ڈالا جاتا ہے اسی طرح ایک شخص بہشتی ہوتا ہے اور جہنمیوں کے عمل کرتا ہے یہاں تک کہ اُس میں اور جہنم میں صرف ایک بالشت کا فرق رہ جاتا ہے اور آخر کار اُس کی تقدیر غالب آجاتی ہے اور پھر وہ نیک عمل بجا لانا شروع کرتا ہے اور اسی پر اُس کی موت ہوتی ہے اور بہشت میں داخل کیا جاتا ہے اور اس پیشگوئی کی سچائی کا یہ ثبوت ہے جس سے کوئی مخالف انکار نہیں کر سکتا کہ وہ کتاب میر ہیں اس لئے ہر وقت نماز میں یہ دعا خدا تعالیٰ نے سکھلائی ہے ( اور فرض کر دی ہے کہ اس کے بدوں نماز نہیں ہو سکتی ) کہ غیر المغضوب عليهم یعنی ایسا نہ ہو کہ ہم منعم علیہ ہونے کے بعد مغضوب علیہ ہو جاویں۔ پس ہمیشہ خدا تعالی کی بے نیازی سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ منہ