حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 307

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۰۷ حقيقة الوح ۱۲۶۔ نشان۔ اور ہانہ میں ایک صاحب میر عباس علی نام تھے جو بیعت کرنے والوں (۲۹۳) میں داخل تھے چند سال تک انہوں نے اخلاص میں ایسی ترقی کی کہ اُن کی موجودہ حالت کے لحاظ سے ایک دفعہ الہام ہوا اصلها ثابت و فرغها في السماء اس الہام سے صرف اس قدر مطلب تھا کہ اُس زمانہ میں وہ راسخ الاعتقاد تھے اور ایسے ہی انہوں نے اُس زمانہ میں آثار ظاہر کئے کہ اُن کے لئے بجہ میرے ذکر کے اور کوئی ورد نہ تھا اور ہر ایک میرے خط کو نہایت درجہ متبرک سمجھ کر اپنے ہاتھ سے اُس کی نقل کرتے تھے اور لوگوں کو وعظ ونصیحت کرتے تھے اور اگر ایک خشک ٹکڑا بھی دستر خوان کا ہو تو متبرک سمجھ کر کھا جاتے تھے اور سب سے پہلے لدھیانہ سے وہی قادیان میں آئے تھے۔ ایک مرتبہ مجھ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے دکھایا گیا کہ عباس علی ٹھوکر کھائے گا اور برگشتہ ہو جائے گا۔ وہ میرا خط بھی انہوں نے میرے ملفوظات میں درج کر لیا بعد اس کے جب اُن کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ کو کہا کہ مجھ کو اس کشف سے جو میری نسبت ہوا بڑا تعجب ہوا کیونکہ میں تو آپ کے لئے مرنے کو تیار ہوں۔ میں نے جواب دیا کہ جو کچھ آپ کے لئے مقدر ہے وہ پورا ہوگا۔ بعد اس کے جب وہ زمانہ آیا کہ میں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو وہ دعویٰ اُن کو نا گوار گزرا۔ اول دل ہی دل میں پیچ و تاب کھاتے رہے بعد اس کے اس مباحثہ کے وقت کہ جو مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب سے لدھیانہ میں میری طرف سے ہوا تھا اور اس تقریب سے چند دن اُن کو مخالفوں کی صحبت بھی میسر آگئی تو نوشتہ تقدیر ظاہر ہو گیا اور وہ صریح طور پر بگڑ گئے اور پھر ایسے بگڑے کہ وہ یقین دل کا اور وہ نورانیت منہ کی جو تھی وہ سب جاتی رہی اور ارتداد کی تاریکی ظاہر ہو گئی اور مرتد ہونے کے بعد ایک دن وہ لدھیانہ میں پیر افتخار احمد صاحب کے مکان پر مجھے ملے اور کہنے لگے کہ آپ کا اور ہمارا اس طرح پر مقابلہ ہوسکتا ہے کہ ایک حجرہ میں ہم دونوں بند کئے جائیں اور دس دن تک بندر ہیں پھر جو جھوٹا ہوگا مر جائے گا۔ میں نے کہا میر صاحب ایسی خلاف شرع آزمائشوں کی کیا ضرورت ہے کسی نبی نے خدا کی آزمائش نہیں کی مگر مجھے اور آپ کو خدا