حقیقةُ الوحی — Page 301
روحانی خزائن جلد ۲۲ حقيقة الوحى سوایسا ہی ظہور میں آیا اور جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں لیکھر ام کے قتل کئے جانے کی (۱۳۸۸) نسبت تین الہام ہیں۔ اول خونی فرشتہ جو میرے پر ظاہر ہوا اور اُس نے پوچھا کہ رام کہاں ہے۔ دوسرا یہی الہام یعنی عجل جسد له خوار۔ له نصب و عذاب یعنی لیکھرام گوسالہ سامری ہے اور گوسالہ سامری کی مانند وہ ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے گا تیسرا وہ شعر جو خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا اور قبل از وقت یعنی پانچ سال لیکھرام کی موت سے پہلے شائع کیا گیا اور وہ شعر یہ ہے: الا اے دشمن نادان و بے راہ بترس از تیغ بُران محمد یعنی اے لیکھرام تو کیوں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوگالیاں دیتا ہے تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تلوار سے جو تجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گی کیوں نہیں ڈرتا۔ اب ہم وہ کل اشعار اس جگہ لکھ دیتے ہیں جن میں مذکورہ بالا الہامی شعر ہے اور نیچے اُن کے لیکھرام پشاوری کی نعش کی وہ تصویر لکھ دیں گے جو خود آریہ صاحبوں نے شائع کی اور ہمیں اُس بدقسمت لیکھرام کی حالت پر نہایت افسوس آتا ہے کہ چند دن اسلام پر زبان درازی کر کے آخر اُس نے جواناں مرگ جان دی۔ اور وہ قریباً دو ماہ تک قادیان میں بھی میرے پاس رہا تھا اور پہلے اس کی ایسی طبیعت نہیں تھی مگر شریر لوگوں نے اس کی طبیعت کو خراب کر دیا۔ اُس نے بڑی خواہش کے ساتھ یہ قبول کیا تھا کہ اگر مجھے معلوم ہوا کہ اسلام ایک ایسا مذ ہب ہے کہ اس میں خدا تعالیٰ کے نشان ظاہر ہوتے ہیں اور امور غیبیہ کھلتے ہیں تو میں اسلام قبول کرلوں گا مگر قادیان کے بعض شریر الطبع لوگوں نے اُس کے دل کو خراب کر دیا اور میری نسبت بھی اُن ) نالائق ہندوؤں نے بہت کچھ جھوٹی باتیں اُس کو سنائیں تا وہ میری صحبت سے متنفر ہو جائے پس ان بد صحبتوں کی وجہ سے روز بروز وہ رڈی حالت کی طرف گرتا گیا مگر جہاں تک میرا خیال ہے ابتدا میں اس کی ایسی رڈی حالت نہ تھی صرف مذہبی جوش تھا جو ہر ایک اہل مذہب حق رکھتا ہے کہ اپنے مذہب کی پابندی میں بپابندی حق پرستی و انصاف بحث کرے وہ ایک مرتبہ اپنے قتل کئے جانے سے ایک برس پہلے لاہور کے اسٹیشن پر ایک چھوٹی سی مسجد میں مجھے ملا