حقیقةُ الوحی — Page 223
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۲۳ حقيقة الوح عیسائی شریک ہیں خدا اسلام کے لئے کسی پر جبر نہیں کرتا اور ایسی پیشگوئی بالکل غیر معقول ہے کہ فلاں شخص اگر اسلام نہ لاوے تو فلاں مدت تک مر جاوے گا دنیا ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے جو منکر اسلام ہیں۔ اور جیسا کہ میں بار بار لکھ چکا ہوں محض انکار اسلام سے کوئی عذاب کسی پر دنیا میں نہیں آسکتا بلکہ اس گناہ کی باز پرس صرف قیامت کو ہو گی ۔ پھر آتھم کی اس میں کون سی خصوصیت تھی کہ بوجہ انکار اسلام اُس کی موت کی پیشگوئی کی گئی اور دوسروں کے لئے نہیں کی گئی بلکہ پیشگوئی کی وجہ صرف یہ تھی کہ اُس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مقدس کی نسبت دجال کا لفظ استعمال کیا تھا جس قول سے اس نے ساتھ یا ستر انسانوں کے روبرو رجوع کیا جن میں سے بہت سے شریف اور معزز تھے جو اس مجلس میں موجود تھے۔ پھر جبکہ اُس نے اِس لفظ سے رجوع کر لیا بلکہ بعد اس کے روتا رہا تو خدا تعالیٰ کی جناب میں رحم کے قابل ہو گیا مگر صرف اسی قدر کہ اُس کی موت میں چند ماہ کی تاخیر ہوگئی اور میری زندگی میں ہی مر گیا اور وہ بحث جو ایک مباہلہ کے رنگ میں تھی اس کی رو سے وہ بوجہ اپنی موت کے جھوٹا ثابت ہوا تو کیا اب تک وہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی بے شک پوری ہو گئی اور نہایت صفائی سے پوری ہوئی ۔ ایسے دلوں پر خدا کی لعنت ہے کہ ایسے صریح نشانوں پر اعتراض کرنے سے باز نہیں آتے اگر وہ چاہیں تو آتھم کے رجوع پر میں چالیس آدمی کے قریب گواہ پیش کر سکتا ہوں اور اسی وجہ سے اُس نے قسم بھی نہ کھائی حالانکہ تمام عیسائی قسم کھاتے آئے ہیں اور حضرت مسیح نے خود قسم کھائی اور ہمیں اس بحث کو طول دینے کی ضرورت نہیں۔ آئھم اب زندہ موجود نہیں گیارہ برس سے زیادہ عرصہ گذرا کہ وہ مرچکا ہے۔ ۲۴۔ نشان-۳۰ رجون ۱۸۹۹ء میں مجھے یہ الہام ہوا۔ پہلے بیہوشی پھر غشی پھر موت۔ ساتھ ہی اس کے یہ تفہیم ہوئی کہ یہ الہام ایک مخلص دوست کی نسبت ہے جس کی موت سے ہمیں رنج پہنچے گا چنانچہ (۲۱۴) اپنی جماعت کے بہت سے لوگوں کو یہ الہام سنایا گیا اور احکم ۳۰ / جون ۱۸۹۹ء میں درج ہوکر شائع کیا گیا پھر آخر جولائی ۱۸۹۹ء میں ہمارے ایک نہایت مخلص دوست یعنی ڈاکٹر محمد بوڑے خاں اسسٹنٹ سرجن