حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 143

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۴۳ حقيقة الوح طرح وہ فصیح اور کثیر المقدار ہاتوں پر قادر نہیں ہو سکتا صرف ایک بد بودار پیرا یہ میں فقر و دو فقرہ دل میں ڈال دیتا ہے ۔ اس کو ازل سے یہ توفیق ہی نہیں دی گئی کہ لذیذ اور با شوکت کلام کر سکے اور یا چند گھنٹہ تک سلسلہ کلام کا سوالات کے جواب دینے میں جاری رکھ سکے۔ اور وہ بہر ہ بھی ہے ہر ایک سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ اور وہ عاجز بھی ہے اپنے الہامات میں کوئی قدرت اور اعلیٰ درجہ کی غیب گوئی کا نمونہ دکھلا نہیں سکتا تی اور اُس کا گلا بھی بیٹھا ہوا ہے پُر شوکت اور بلند آواز سے بول نہیں سکتا ۔ مختشوں کی طرح اُس کی آواز دھیمی ہے انہیں علامات سے شیطانی وحی کو شناخت کر لو گے ۱۴۰ھ لیکن خدا تعالیٰ مہنگے اور بہرے اور عاجز کی طرح نہیں وہ سنتا ہے اور برابر جواب دیتا ہے اور حمد یہ سوال که آیا شیطانی خواب یا الہام میں کوئی غیبی خبر ہو سکتی ہے یا نہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ شیطانی خواب یا الہام میں جیسا کہ قرآن شریف سے ظاہر ہوتا ہے کبھی خبر غیب تو ہوسکتی ہے مگر وہ تین علامتیں اپنے ساتھ رکھتی ہے (۱) اول یہ کہ وہ غیب کوئی اقتداری غیب نہیں ہوتا جیسا کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں اس قسم کے غیب ہوتے ہیں کہ فلاں شخص جو شرارت سے باز نہیں آتا ہم اس کو ہلاک کریں گے ۔ اور فلاں شخص جس نے صدق دکھلایا ہم اُس کو ایسی ایسی عزت دیں گے اور ہم اپنے نبی کی تائید کے لئے فلاں فلاں نشان دکھلائیں گے اور ان کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکے گا اور ہم منکروں پر فلاں عذاب وارد کریں گے اور مومنوں کو اس طور کی فتح اور نصرت دیں گے۔ یہ اقتداری غیب ہیں جو حکومت کی طاقت اپنے اندر رکھتے ہیں ۔ ایسی پیشگوئیاں شیطان نہیں کر سکتا۔ (۲) دوسری: شیطانی خواب یا الهام بخیل کی طرح ہوتا ہے اس میں کثرت سے غیب نہیں ہوتا اور رحمانی ملہم کے مقابل پر ایسا شخص بھاگ جاتا ہے کیونکہ رحمانی ملہم کے مقابل پر اس کا غیب اس قدر قلیل المقدار ہوتا ہے جیسا کہ سمندر کے مقابل پر ایک قطرہ ۔ (۳) تیسری: اکثر اس پر جھوٹ غالب ہوتا ہے مگر رحمانی خواب یا الہام پر بیچ غالب ہوتا ہے یعنی اگر کل الہامات کو دیکھا جائے تو رحمانی الہام میں کثرت بیچ کی ہوتی ہے۔ اور شیطانی میں اس کے برخلاف اور ہم نے گل کا لفظ رحمانی خوابوں یا الہاموں کی نسبت اس لئے استعمال نہیں کیا کہ ان ۱۴۰ یکے میں بھی بعض الہام یا خواب متشابہات کے رنگ میں ہوتے ہیں یا اجتہادی طور پر کوئی غلطی ہو جاتی ہے اور جاہل نادان ایسی پیشگوئیوں کو جھوٹ سمجھ لیتے ہیں اور ان کا وجود محض ابتلا کے لئے ہوتا ہے۔ اور بعض ربانی پیشگوئیاں وعید کی قسم سے ہوتی ہیں جن کا تخلف جائز ہوتا ہے۔ اور نیز یادر ہے کہ شیطانی الہام فاسق اور نا پاک آدمی سے مناسبت رکھتا ہے مگر رحمانی الہامات کی کثرت صرف اُن کو ہوتی ہے جو پاک دل ہوتے اور خدا تعالی کی محبت میں محو ہو جاتے ہیں۔ منہ