حقیقةُ الوحی — Page 142
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۴۲ حقيقة الوح اور کس حالت میں کہا جائے گا کہ خدا کسی شخص سے مکالمہ فرماتا ہے بلکہ اکثر نادان لوگ شیطانی القا کو بھی خدا کا کلام سمجھنے لگتے ہیں اور اُن کو شیطانی اور رحمانی الہام میں تمیز نہیں ۔ پس یادر ہے کہ رحمانی الہام اور وحی کے لئے اول شرط یہ ہے کہ انسان محض خدا کا ہو جائے اور شیطان کا کوئی حصہ اُس میں نہ رہے کیونکہ جہاں مردار ہے ضرور ہے کہ وہاں کتے بھی جمع ہو جا ئیں اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : هَلْ أَتَيْتُكُمْ عَلَى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيطانُ تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكِ أَثِيم لا مگر جس میں شیطان کا حصہ نہیں رہا اور وہ سفلی زندگی سے ایسا دور ہوا کہ گویا مر گیا اور راستباز اور وفادار (۳۹) بندہ بن گیا اور خدا کی طرف آ گیا اُس پر شیطان حملہ نہیں کر سکتا جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمُ سلطن جو شیطان کے ہیں اور شیطان کی عادتیں اپنے اندر رکھتے ہیں انہیں کی طرف شیطان دوڑتا ہے کیونکہ وہ شیطان کے شکار ہیں ۔ اور نیز یادر ہے کہ خدا کے مکالمات ایک خاص برکت اور شوکت اور لذت اپنے اندر رکھتے ہیں ۔ اور چونکہ خدا سمیع وعلیم ورحیم ہے اس لئے وہ اپنے متقی اور راستباز اور وفادار بندوں کو اُن کے معروضات کا جواب دیتا ہے اور یہ سوال و جواب کئی گھنٹوں تک طول پکڑ سکتے ہیں جب بندہ عجز و نیاز کے رنگ میں ایک سوال کرتا ہے تو اس کے بعد چند منٹ تک اس پر ایک ربودگی طاری ہو کر اس ربودگی کے پردہ میں اُس کو جواب مل جاتا ہے۔ پھر بعد اس کے بندہ اگر کوئی سوال کرتا ہے تو پھر دیکھتے دیکھتے اس پر ایک اور ربودگی طاری ہو جاتی ہے اور بدستور اس کے پردہ میں جواب مل جاتا ہے۔ اور خدا ایسا کریم اور رحیم اور حلیم ہے کہ اگر ہزار دفعہ بھی ایک بندہ کچھ سوالات کرے تو جواب مل جاتا ہے مگر چونکہ خدا تعالیٰ بے نیاز بھی ہے اور حکمت اور مصلحت کی بھی رعایت رکھتا ہے اس لئے بعض سوالات کے جواب میں اظہار مطلوب نہیں کیا جاتا اور اگر یہ پوچھا جاوے کہ کیوں کر معلوم ہو کہ وہ جوابات خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ شیطان کی طرف سے۔ اس کا جواب ہم ابھی دے چکے ہیں۔ ما سوا اس کے شیطان گنگا ہے اپنی زبان میں فصاحت اور روانگی نہیں رکھتا اور گنگے کی الشعراء : ۲۲۲ ۲۲۳ الحجر : ٢٣