حقیقةُ الوحی — Page 131
۱۳۱ حقيقة الوح روحانی خزائن جلد ۲۲ صرف بعض رسولوں پر ایمان لانا کافی ہے یہ ضروری نہیں کہ خدا کے ساتھ رسول پر بھی ایمان لاویں یا سب نبیوں پر ایمان لاویں اور چاہتے ہیں کہ خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر بین بین مذہب اختیار کر (۱۳۸) لیں ۔ وہی پکے کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب مہیا کر رکھا ہے اور وہ لوگ جو خدا اور رسول پر ایمان لاتے ہیں اور خدا اور اس کے رسولوں میں تفرقہ نہیں ڈالتے یعنی یہ تفرقہ اختیار نہیں کرتے کہ صرف خدا پر ایمان لاویں مگر اُس کے رسولوں پر ایمان نہ لادیں اور نہ یہ تفرقہ پسند کرتے ہیں کہ بعض رسولوں پر تو ایمان لاویں اور بعض سے برگشتہ رہیں۔ ان لوگوں کو خدا اُن کا اجر دے گا۔ اب کہاں ہیں میاں عبد الحکیم خان مرتد جو میری اس تحریر سے مجھ سے برگشتہ ہو گیا۔ چاہیے کہ اب آنکھ کھول کر دیکھے کہ کس طرح خدا نے اپنی ذات پر ایمان لانا رسولوں پر ایمان لانے سے وابستہ کیا ہے۔ اس میں راز یہ ہے کہ انسان میں تو حید قبول کرنے کی استعداد اُس آگ کی طرح رکھی گئی ہے جو پتھر میں مخفی ہوتی ہے۔ اور رسول کا وجود چقماق کی طرح ہے جو اس پتھر پر ضرب توجہ لگا کر اُس آگ کو باہر نکالتا ہے۔ پس ہر گز ممکن نہیں کہ بغیر رسول کی چقماق کے توحید کی آگ کسی دل میں پیدا ہو سکے تو حید کو صرف رسول زمین پر لاتا ہے اور اُسی کی معرفت یہ حاصل ہوتی ہے۔ خدا مخفی ہے اور وہ اپنا چہرہ رسول کے ذریعہ دکھلاتا ہے ۔ (۱۰) قوله تعالى يَأَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَ كُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَا مِنُوا خَيْرٌ لَّكُمْ وَإِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَكَانَ اللَّهُ علِيمًا حَكِيمات (الجز نمبر ۶ سوره نساء) ترجمہ: اے لوگو! تمہارے پاس رسول حق کے ساتھ آیا ہے۔ پس تم اس رسول پر ایمان لاؤ۔ ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ درود شریف کے پڑھنے میں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے میں ایک زمانہ تک مجھے بہت استغراق رہا کیونکہ میرا یقین تھا کہ خدا تعالیٰ کی راہیں نہایت دقیق را ہیں ہیں وہ بجز وسیلہ نبی کریم کے مل نہیں سکتیں جیسا کہ خدا بھی فرماتا ہے: وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ ، تب ایک مدت کے بعد کشفی حالت میں میں نے دیکھا کہ دوستے یعنی ماشکی آئے اور ایک اندرونی راستے سے اور ایک بیرونی راہ سے میرے گھر میں داخل ہوئے ہیں اور اُن کے کاندھوں پر نور کی مشکیں ہیں اور کہتے ہیں ھذا بما صليت على محمد - منه النساء : ۱۷۱ المائدة : ٣٦