حقیقةُ الوحی — Page 121
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۲۱ حقيقة الوح پر کوئی بُرہان یقینی عقلی ان کو ملزم کرتی تو وہ سخت بے حیائی اور ٹھٹھے اور جنسی کے ساتھ خدا تعالی کے وجود سے منکر نہ ہو جاتے۔ پس کوئی شخص فلسفیوں کی کشتی پر بیٹھ کر طوفان شبہات سے نجات نہیں پا سکتا بلکہ ضرور غرق ہوگا اور ہرگز ہرگز شربت تو حید خالص اُس کو میسر نہیں آئے گا۔ اب سوچو کہ یہ خیال کس قدر باطل اور بد بودار ہے کہ بغیر وسیلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے توحید میسر آسکتی ہے اور ۱۸ اس سے انسان نجات پاسکتا ہے۔ اے نادانو! جب تک خدا کی ہستی پر یقین کامل نہ ہو اس کی تو حید پر کیونکر یقین ہو سکے۔ پس یقینا سمجھو کہ توحید یقینی محض نبی کے ذریعہ سے ہی مل سکتی ہے جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے دہریوں اور بد مذہبوں کو ہزار ہا آسمانی نشان دکھلا کر خدا تعالیٰ کے وجود کا قائل کر دیا اور اب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور کامل پیروی کرنے والے اُن نشانوں کو دہریوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ بات یہی بیچ ہے کہ جب تتک زندہ خدا کی زندہ طاقتیں انسان مشاہدہ نہیں کرتا شیطان اُس کے دل میں سے نہیں نکلتا اور نہ کچی تو حید اُس کے دل میں داخل ہوتی ہے اور نہ یقینی طور پر خدا کی ہستی کا قائل ہو سکتا ہے۔ اور یہ پاک اور کامل تو حید صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ملتی ہے۔ اور وہ زبر دست نشان جو نبی کے ذریعہ سے ظاہر ہوتے ہیں جیسا کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی اور وحدانیت کو ثابت کرتے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ کی صفات جمالی اور جلالی کو اکمل اور اتم طور پر ثابت کر کے اُس کی عظمت اور محبت دلوں میں بٹھاتے ہیں اور جب ان نشانوں سے جن کی جڑھ زبر دست اور اقتداری پیشگوئیاں ہیں خدا تعالیٰ کی ہستی اور وحدانیت اور اس کے صفات جمالیہ اور جلالیہ پر یقین آجاتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کو اس کی ذات اور جمیع صفات میں واحد لاشریک جانتا ہے اور اُس کی خوبیوں اور روحانی حسن و جمال پر نظر ڈال کر اُس کی محبت میں کھویا جاتا ہے اور پھر اُس کی عظمت اور جلال اور بے نیازی پر نظر ڈال کر اُس سے ڈرتا رہتا ہے اور اس طرح پر وہ دن بدن خدا تعالیٰ کی طرف کھنچا جاتا ہے یہاں تک کہ تمام سفلی تعلقات توڑ کر روح محض رہ جاتا ہے اور تمام محن سینہ اُس کا محبت الہی سے بھر جاتا ہے اور خدا کے وجود کے مشاہدہ سے اُس کے وجود پر ایک موت وارد ہو جاتی ہے اور وہ موت کے بعد ایک نئی زندگی پاتا ہے۔ تب