حقیقةُ الوحی — Page 120
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۲۰ حقيقة ا مگر صرف واحد سمجھنے سے نجات نہیں ہو سکتی بلکہ نجات تو دو امر پر موقوف ہے۔ (۱) ایک یہ کہ یقین کامل کے ساتھ خدا تعالیٰ کی ہستی اور وحدانیت پر ایمان لاوے۔ (۲) دوسرے یہ کہ ایسی کامل محبت حضرت احدیت جلّ شانہ کی اُس کے دل میں جاگزین ہو کہ جس کے استیلا اور غلبہ کا یہ نتیجہ ہو کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت عین اُس کی راحت جان ہو جس کے بغیر وہ جی ہی نہ سکے اور اس کی محبت تمام اغیار کی محبتوں کو پامال اور معدوم کر دے یہی توحید حقیقی ہے کہ بجز متابعت ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حاصل ہی نہیں ہو سکتی۔ کیوں حاصل نہیں ہو سکتی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا کی ذات غیب الغیب اور وراء الوراء اور نہایت مخفی واقع ہوئی ہے جس کو عقول انسانیہ محض اپنی طاقت سے دریافت نہیں کر سکتیں اور کوئی برہان عقلی اس کے وجود پر قطعی دلیل نہیں ہو سکتی کیونکہ عقل کی دوڑ اور سعی صرف اس حد تک ہے کہ اس عالم کی صنعتوں پر نظر کر کے صانع کی ضرورت محسوس کرے مگر ضرورت کا محسوس کرنا اور شے ہے اور اس درجہ عین الیقین تک پہنچنا کہ جس خدا کی ضرورت تسلیم کی گئی ہے وہ در حقیقت موجود بھی ہے یہ اور بات ہے۔ اور چونکہ عقل کا طریق ناقص اور نا تمام اور مشتبہ ہے اس لئے ہر ایک فلسفی محض عقل کے ذریعہ سے خدا کو شناخت نہیں کر سکتا بلکہ اکثر ایسے لوگ جو محض عقل کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کا پتہ لگانا چاہتے ہیں آخر کا رد ہر یہ بن جاتے ہیں اور مصنوعات زمین و آسمان پر غور کرنا کچھ بھی اُن کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا اور خدا تعالیٰ کے کا ملوں پر ٹھٹھا اور ہنسی کرتے ہیں اور اُن کی یہ حجت ہے کہ دنیا میں ہزار ہا ایسی چیزیں پائی جاتی ہیں جن کے وجود کا ہم کوئی فائدہ نہیں دیکھتے اور جن میں ہماری عقلی تحقیق سے کوئی ایسی صنعت ثابت نہیں ہوتی جو صانع پر دلالت کرے بلکہ محض لغو اور باطل طور پر اُن چیزوں کا وجود پایا جاتا ہے۔ افسوس وہ نادان نہیں جانتے کہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا۔ اس قسم کے لوگ کئی لاکھ اس زمانہ میں پائے جاتے ہیں جو اپنے تئیں اوّل درجہ کے عقلمند اور فلسفی سمجھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے وجود سے سخت منکر ہیں ۔ اب ظاہر ہے کہ اگر کوئی عقلی دلیل زبر دست اُن کو ملتی تو وہ خدا تعالیٰ کے وجود کا انکار نہ کرتے ۔ اور اگر وجود باری جل شانه