حقیقةُ الوحی — Page 88
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۸۸ حقيقة (۸۵) ثلة من الاولين وثلة من الأخرين ۔ میں اپنی چہکار ان میں سے ایک پہلا گر وہ ہوا اور ایک پچھلا ۔ دکھلاؤں گا۔ اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ ابھی میں شاید تین رکعت پڑھ چکا تھا کہ میرے پر کشفی حالت طاری ہوگئی اور میں نے کشفی نظر سے دیکھا کہ لڑکا بالکل تندرست ہے تب وہ کشفی حالت جاتی رہی اور میں نے دیکھا کہ لڑکا ہوش کے ساتھ چارپائی پر بیٹھا ہے اور پانی مانگتا ہے اور میں چار رکعت پوری کر چکا تھا۔ فی الفور اس کو پانی دیا اور بدن پر ہاتھ لگا کر دیکھا کہ آپ کا نام ونشان نہیں اور ہذیان اور بے تابی اور بے ہوشی بالکل دور ہو چکی تھی اور لڑکے کی حالت بالکل تندرستی کی تھی ۔ مجھے اُس خدا کی قدرت کے نظارہ نے الہی طاقتوں اور دعا قبول ہونے پر ایک تازہ ایمان بخشا۔ پھر ایک مدت کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ نواب سردار محمد علی خان رئیس مالیر کوٹلہ کا لڑ کا قادیان میں سخت بیمار ہو گیا اور آثار یاس اور نومیدی کے ظاہر ہو گئے اُنہوں نے میری طرف دعا کے لئے التجا کی۔ میں نے اپنے بیت الدعا میں جا کر اُن کے لئے دعا کی اور دعا کے بعد معلوم ہوا کہ گویا تقدیر مبرم ہے اور اس وقت دعا کرنا عبث ہے تب میں نے کہا کہ یا الہی اگر دعا قبول نہیں ہوتی تو میں شفاعت کرتا ہوں کہ میرے لئے اس کو اچھا کر دے یہ لفظ میرے منہ سے نکل گئے مگر بعد میں میں بہت نادم ہوا کہ ایسا میں نے کیوں کہا۔ اور ساتھ ہی مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی ہوئی من ذا الذی يشفع عنده إلا باذنہ یعنی کس کو مجال ہے کہ بغیر اذن الہی شفاعت کرے ۔ میں اس وحی کو سن کر چپ ہو گیا اور ابھی ایک منٹ نہیں گذرا ہوگا کہ پھر یہ وحی الہی ہوئی کہ انک انت المجاز یعنی تجھے شفاعت کرنے کی اجازت دی گئی۔ بعد میں پھر میں نے دعا پر زور دیا اور مجھے محسوس ہوا کہ اب یہ دعا