حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 417

حَمامة البشریٰ — Page 351

صفات باری تعالیٰ میں سے پانچواں سمندر مالک یوم الدین کی صفت ہے اور اس سے غیر المغضوب علیھم ولاالضآلین کی آیت مستفیض ہوتی ہے ۱۱۸،۱۱۹ نعبدکونستعینسے پہلے رکھنے میں کئی نکات کا بیان ۱۲۰،۱۲۱ اھدنا الصراط المستقیم۔۔۔ولاالضالین اس دعا میں ان خیالا ت کی تردید ہے کہ جو ہونا ہے وہ لکھا جا چکا اب دعا کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور ان علامتوں کی طرف اشارہ ہے جن سے اصطفاء کے طریق پر قبولیت دعا کی شناخت ہوتی ہے ۱۲۲ اس سورۃ کی پہلی آیت میں تخلیق کے آغاز کا ذکر ہے اور آخری آیت میں قیامت کا ذکر ہے۔اور سات آیات اشارہ کر رہی ہیں کہ اس دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے ۱۲۲،۱۲۳ اھدنا الصراط المستقیم میں صحیح معرفت کے حصول کی دعا کرنے کی ترغیب ہے ۱۲۳ المغضوب اور الضّآلّین کی تفسیر ۱۲۳ سورۃ الفاتحہ میں اشارہ ہے کہ ہدایت ایسی چیز ہے جو خدا کی طرف سے ملتی ہے اور اس کی کوئی انتہاء نہیں ہے۔اس کا حصول اور اس پر ثابت قدمی خدا تعالیٰ سے دعا کے بغیر ممکن نہیں ۱۲۴ سورۃ الفاتحہ میں مذکور صفات باری تعالیٰ میں عیسائیت کا ردّ ہے ۱۱۴،۱۱۵ سورۃ الفاتحہ میںیہود و نصارٰی کے انجام کا ذکر اس طرف اشارہ کرتاہے کہ مسلمانوں کا بھی آخری زمانہ میں ان جیسا معاملہ ہو جائے گا ۱۲۵،۱۳۶ سورۃ الفاتحہ میں دعا کی برکتوں کی طرف اشارہ ہے ۱۲۵ الحمد للّٰہکے الفاظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ صفات باری تعالیٰ اس کے مطابق اثر دکھاتی ہیں جتنا بندہ کوان پرایمان ہو ۱۲۶ صراط الذین انعمت علیھم میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعد میں آنے والوں کو پہلے آنے والوں کے مشابہہ پیدا کیا ہے ۱۲۶ الفاتحہ میں خوشخبری ہے کہ تم پہلے انعام یافتہ لوگوں کی طبیعتوں پر پیدا کئے گئے ہو پس کمالات کے حصول کے لئے مجاہدات کرو ۱۲۷ اھدنا الصراط المستقیم کی دعا انسان کو ہر قسم کی کجی سے نجات دیتی ہے ۱۲۷ اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم میں نفوس کو شرک کی باریک راہوں سے پاک کرنے اور ان راہوں کے اسباب کو مٹانے کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۱۳۱ اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم میں نبیوں کے کمالات کے حصول کی دعا کی ترغیب ہے ۱۳۱ اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ پہلے رسولوں اور صدیقوں کی وراثت ایک لازمی امر ہے ۱۳۱، ۱۳۲ اھدنا الصراط المستقیم۔۔۔اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی بندے کو کمال عطا کرتا ہے اور جاہل لوگ اس کی عبادت کرنے لگتے ہیں تو خدا اس کا کوئی مثل پیدا کردیتا ہے اور اس کا وہی نام رکھ دیتا ہے ۱۳۲،۱۳۳ اھدنا الصراط المستقیمسے حقیقی مراد ۱۳۳، ۱۳۴ غیر المغضوب علیھم میں خدا تعالیٰ سے ادب کا طریق اختیار کرنے کی اشارہ ہے ۱۳۵ سورۃ فاتحہ میں سکھائی گئی دعا اور انجیل کی دعا کا موازنہ ۱۳۷،۱۳۹ سورۃ الفاتحہ میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی صفات کی پیروی کرنے کی تاکید کی گئی ہے ۱۴۵ ایّاک نعبد و ایاک نستعیناس پر دلالت کرتا ہے کہ تمام تر سعادت خدا تعالیٰ کی صفات کی پیروی کرنے اور معبود کے رنگ میں رنگین ہو جانے میں ہے ۱۴۶