حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 349 of 417

حَمامة البشریٰ — Page 349

اگر یاجوج ماجوج ، دجال اور عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ظاہری رنگ میں قیامت سے پہلے تسلیم کریں تویہ خلاف قرآن ہے ۳۰۳،۳۰۴،۳۰۵ اسلام آیت ثلۃ من الاولین و ثلۃ من الآخرین سے استدلال کہ امت محمدیہ مکالمہ الٰہیہ سے مشرف ہے ۲۱،۳۰ امت مسلمہ میں آپس میں بہت اختلاف ہے ۳۶ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ رسول کریم اپنی روحانی توجہ سے امت میں آخرین کے گروہ کا تزکیہ فرمائیں گے ۲۴۴ احادیث سے ثابت ہے کہ امت محمدیہ میں الہام جاری ہے ۳۰۰ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل ۳۰۱ توراۃ امام ہے یعنی اس میں ہر اس واقعہ کی مثال موجود ہے جو امت مسلمہ میں ہو گا ۳۱۳ الہام ؍کشف اللہ تعالیٰ اولیاء سے کلام کرتا ہے، رازوں سے پردہ اٹھاتاہے انہیں انبیاء کے علم اور نور سے فیضیاب کرتا ہے ۱۶، ۲۲ ح،۲۳ اللہ تعالیٰ انبیاء کے علاوہ بھی اپنے محبوب بندوں سے کلام کرتا ہے ۱۶،۱۷،۲۱ح،۲۲ آیت ثلۃ من الاولین و ثلۃ من الآخرین سے استدلال کہ امت محمدیہ مکالمہ الٰہیہ سے مشرف ہے ۲۱،۳۰ امام شیخ احمد سرہندی کے مکتوبات میں وحی کی اقسام ۲۸ح قرآن کریم کا سچا پیرو بھی منجانب اللہ الہام پا کر امور غیبیہ کو پا سکتا ہے ۵۴،۵۵ قرآن کریم سے اجرائے الہام کا ثبوت ۲۷۹،۲۹۸ احادیث سے ثابت ہے کہ امت محمدیہ میں الہام جاری ہے ۳۰۰ انبیاء و رسل کی وحی میں مجاز اور استعارات پائے جاتے ہیںآنحضرت ﷺ کی وحی سے مثالیں ۱۹۰،۱۹۱ح رؤیا الانبیاء وحی ۱۹۰ح انجیل قرآن کریم اور تورات و انجیل کی تعلیم میں موازنہ ۵۷ اناجیل محرف و مبدل ہیں ۷۴،۷۹ انجیل ’’باپ‘‘ کے نام سے خدا کو یاد کرتی ہے جس میں مخلوقیت اور شرک کا پہلو نظر آتا ہے ۱۴۰ تورات اور انجیل میں احکام قوانین قدرت ، انسانی فطرت اور قویٰ کے لحاظ سے نہیں ہیں ۵۷،۵۸ انجیل نے جو علامتیں ایمان والوں کی ٹھہرائیں وہ عیسائیوں میں نہیں پائی جاتیں ۵۴، ۵۵ قرآن کریم اور انجیل میں دعا سے قبل سکھائی گئی تمہید کا آپس میں موازنہ ۱۴۲،۱۴۳ سورۃ فاتحہ میں سکھائی گئی دعا اور انجیل کی دعا کا موازنہ ۱۳۷، ۱۳۹،۱۴۳،۱۴۴ قرآن کریم اور انجیل کی دعا کا موازنہ ۱۴۳،۱۴۴ اوتاد الارض سید عبد القادر جیلانی ؒ نے فتوح الغیب میں امت محمدیہ کے کامل افراد کو اوتادالارض قرار دیا ۲۶ح اولیاء اللہ ( دیکھیں ولی) اہل حدیث مسلمان علماء کا گروہ جو قرآن کریم کو وحی اور امام صادق اور معیار کامل نہیں مانتا بلکہ قرآن کریم کی تحقیر کرتا ہے۔اور اس کو احادیث کے احکامات کے ماتحت رکھتا ہے ۱۸۹ ،۱۹۰