فتح اسلام — Page 40
روحانی خزائن جلد۳ فتح اسلام ۔ اور بے سامانی کی حالت میں چھوڑ گئے۔ اے خداوند قادر مطلق تو اُن کا متکفل اور متوتی ہو۔ اور میرے محبین کے دلوں میں الہام ڈال کہ اپنے اس یک رنگ بھائی کے پس ماندوں کے لئے جو بے کس اور بے سامان رہ گئے کچھ ہمدردی کا حق بجالا و ہیں۔ اے خدا اے چارہ ساز ہر دل اند و لگیں اے پناہ عاجزان آمرزگار مذنبین از کرم آن بنده خود را به بخش بانواز این جدا افتادگان را از ترحم با به بین میں نے بطور نمونہ اس جگہ چند دوستوں کا ذکر کیا ہے اور اسی رنگ اور اسی شان کے میرے اور دوست بھی ہیں جن کا مفصل ذکر انشاء اللہ ایک مستقل رسالہ میں کروں گا۔ اب مضمون طول ہوا جاتا ہے اسی پر بس کرتا ہوں ۔ اور میں اس جگہ اس بات کا اظہار بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ جس قدر لوگ میرے سلسلۂ بیعت میں داخل ہیں وہ سب کے سب ابھی اس بات کے لائق نہیں کہ میں اُن کی نسبت کوئی عمدہ رائے ظاہر کر سکوں بلکہ بعض خشک ٹہنیوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ جن کو میرا خداوند جو میرا متوتی ہے مجھ سے کاٹ کر جلنے والی لکڑیوں میں پھینک دے گا۔ بعض ایسے بھی ہیں کہ ۲۸ اول اُن میں دلسوزی اور اخلاص بھی تھا مگر اب اُن پر سخت قبض وارد ہے اور اخلاص کی سرگرمی اور مریدانہ محبت کی نورانیت باقی نہیں رہی بلکہ صرف بَلْعَمُ کی طرح مکاریاں باقی رہ گئی ہیں۔ اور بوسیدہ دانت کی طرح اب بجز اس کے کسی کام کے نہیں کہ منہ سے اُکھاڑ کر پیروں کے نیچے ڈال دیئے جائیں۔ وہ تھک گئے اور درماندہ ہو گئے اور نابکار دنیا نے اپنے دام تزویر کے نیچے انہیں دبا لیا۔ سو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ عنقریب مجھ سے کاٹ دیئے جائیں گے بجز اس شخص کے کہ خدا تعالیٰ کا فضل نئے سرے اُس کا ہاتھ پکڑ لیوے۔ ایسے بھی بہت ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے مجھے دیا ہے اور وہ میرے درخت وجود کی سرسبز شاخیں ہیں اور میں انشاء اللہ کسی دوسرے وقت میں اُن کا تذکرہ لکھوں گا۔