فتح اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 748

فتح اسلام — Page 39

روحانی خزائن جلد۳ ۳۹ فتح اسلام حض ابتغاء لمرضات الله اس راہ میں دے چکے ہیں۔ خدا تعالی انہیں جزائے خیر بخشے ۔ از آنجملہ میرے نہایت پیارے بھائی اپنی جدائی سے ہمارے دل پر داغ ڈالنے والے میرزا عظیم بیگ صاحب مرحوم و مغفور رئیس سا ما نہ علاقہ پٹیالہ کے ہیں جو دوسری ربیع الثانی ۱۳۰۸ھ میں اس جہانِ فانی سے انتقال کر گئے إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ الْعَيْنُ تَدْمَعُ وَالْقَلْبُ يَحْزُنُ وَ إِنَّا بِفِرَاقِهِ لَمَحْرُونُونَ میرزا صاحب مرحوم جس قدر مجھ سے محض اللہ محبت رکھتے اور جس قدر مجھ میں فنا ہو رہے تھے میں کہاں سے ایسے الفاظ لاؤں تا اُس عشقی مرتبہ کو بیان کر سکوں اور جس قدر ان کی بے وقت مفارقت سے مجھے غم اور اندوہ پہنچا ہے میں اپنے گذشتہ زمانہ میں اُس کی نظیر بہت ہی کم دیکھتا ہوں ۔ وہ ہمارے فرط اور ہمارے میر منزل ہیں جو ہمارے دیکھتے دیکھتے ہم سے رخصت ہو گئے ۔ جب تک ہم زندہ (۲۲) رہیں گے اُن کی مفارقت کا غم ہمیں کبھی نہیں بھولے گا۔ در دیست در دلم که گر از پیش آب چشم بر دارم آستین برود تا بدانم اُن کی مفارقت کی یاد سے طبیعت میں اُداسی اور سینہ میں قلق کے غلبہ سے کچھ خلش اور دل میں غم اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ اُن کا تمام وجود محبت سے بھر گیا تھا۔ میرزا صاحب مرحوم محبانہ جوشوں کے ظاہر کرنے کے لئے بڑے بہادر تھے ۔ اُنہوں نے اپنی تمام زندگی اسی راہ میں وقف کر رکھی تھی ۔ مجھے امید نہیں کہ انہیں کوئی اور خواب بھی آتی ہو۔ اگر چہ میرزا صاحب بہت قلیل البضاعت آدمی تھے مگر ان کی نگاہ میں دینی خدمتوں کے محل پر جو ہمیشہ کرتے رہتے تھے خاک سے زیادہ مال بے قدر تھا۔ اسرار معرفت کے سمجھنے کے لئے نہایت درجہ کا فہم سلیم رکھتے تھے محبت سے بھرا ہوا یقین جو اس عاجز کی نسبت وہ رکھتے تھے خدا تعالیٰ کے تصرف نام کا ایک معجزہ تھا اُن کے دیکھنے سے طبیعت ایسی خوش ہو جاتی تھی جیسے ایک پھولوں اور پھلوں سے بھرے ہوئے باغ کو دیکھ کر طبیعت خوش ہوتی ہے۔ وہ بنظر ظاہر اپنے پس ماندوں اور اپنے خورد سال بچہ کو نہایت ضعف اور ناداری (۲۷)