فتح اسلام — Page 32
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۲ فتح اسلام یا اُس چشمہ شیریں کی طرح ہے جوخس و خاشاک سے چھپا دیا جائے ۔ اسی وجہ سے اسلام تنزل کی حالت میں پڑا ہے۔ اُس کا خوبصورت چہرہ دکھائی نہیں دیتا۔ اس کا دلکش اندام نظر نہیں آتا۔ مسلمانوں کا فرض تھا کہ اس کی محبوبانہ شکل دکھلانے کے لئے جان توڑ کر کوشش کرتے اور مال کیا بلکہ خون کو بھی پانی کی طرح بہاتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ اپنی غایت درجہ کی نادانی سے اس غلطی میں بھی پھنسے ہوئے ہیں کہ کیا پہلی تالیفات کافی نہیں ۔ نہیں جانتے کہ جدید فسادوں کے دُور کرنے کے لئے جو جدید در جدید پیرائیوں میں ظاہر ہوتے ۵۴) جاتے ہیں مدافعت بھی جدید طور کی ہی ضروری ہے اور نیز ہر ایک زمانہ کی تاریکی پھیلنے کے وقت میں جو نبی اور رسول اور مصلح آتے رہے کیا اُس وقت پہلی کتا بیں نہیں تھیں ۔ سو بھا ئیو یہ تو ضروری ہے کہ تاریکی پھیلنے کے وقت میں روشنی آسمان سے اُترے۔ میں اسی مضمون میں بیان کر چکا ہوں کہ خدا تعالے سورۃ القدر میں بیان فرماتا ہے بلکہ مومنین کو بشارت دیتا ہے کہ اُس کا کلام اور اس کا نبی لیلتہ القدر میں آسمان سے اُتارا گیا ہے اور ہر ایک مصلح اور مسجد دجو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے وہ لیلۃ القدر میں ہی اُترتا ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے؟ لیلۃ القدر اُس ظلمانی زمانہ کا نام ہے جس کی ظلمت کمال کی حد تک پہنچ جاتی ہے اس لئے وہ زمانہ بالطبع تقاضا کرتا ہے کہ ایک نور نازل ہو جو اس ظلمت کو دور کرے۔ اس زمانہ کا نام بطور استعارہ کے لیلۃ القدر رکھا گیا ہے۔ مگر در حقیقت یہ رات نہیں ہے۔ یہ ایک زمانہ ہے جو بوجہ ظلمت رات کا ہم رنگ ہے۔ نبی کی وفات یا اُس کے روحانی قائم مقام کی وفات کے بعد جب ہزار مہینہ جو بشری عمر کے دور کو قریب الاختتام کرنے والا اور انسانی حواس کے الوداع کی خبر دینے والا ہے گذر جاتا ہے تو یہ رات اپنا رنگ جمانے لگتی ہے تب آسمانی کارروائی سے ایک (۵۵) یا کئی مصلحوں کی پوشیدہ طور پر تخم ریزی ہو جاتی ہے جو نئی صدی کے سر پر ظاہر ہونے کے لئے اندر ہی اندر طیار ہو رہتے ہیں۔ اسی کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرماتا ہے کہ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شہر کے یعنی اس لیلۃ القدر کے نور کو دیکھنے والا اور وقت کے مصلح کی صحبت سے القدر :