فتح اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 748

فتح اسلام — Page 31

روحانی خزائن جلد۳ ۳۱ فتح اسلام ایسی تنگدستی نہیں ۔ اور وہ لوگ جو کامل استطاعت نہیں رکھتے وہ بھی اس طور پر اس کارخانہ کی مدد کر سکتے ہیں جو اپنی اپنی طاقت مالی کے موافق ماہواری امداد کے طور پر عہد پختہ کے ساتھ کچھ کچھ رقوم نذر اس کارخانہ کی کیا کریں۔ کسل اور سرد مہری اور باطنی سے بھی دین کو فائدہ نہیں پہنچتا۔ بدظنی ویران کرنے والی گھروں کی اور تفرقہ میں ڈالنے والی دلوں کی ہے۔ دیکھو جنہوں نے انبیاء کا وقت پایا انہوں نے دین کی اشاعت کے لئے کیسی کیسی جانفشانیاں کیں جیسے ایک مالدار نے دین کی راہ میں اپنا پیارا مال حاضر کیا ایسا ہی ایک فقیر دریوزہ گر نے (۵۲) اپنی مرغوب ٹکڑوں کی بھری ہوئی زنبیل پیش کر دی۔ اور ایسا ہی کئے گئے جب تک کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے فتح کا وقت آ گیا ۔ مسلمان بننا آسان نہیں ۔ مومن کا لقب پا نا سہل نہیں ۔ سواے لوگو اگر تم میں وہ راستی کی روح ہے جو مومنوں کو دی جاتی ہے تو اس میری دعوت کو سرسری نگاہ سے مت دیکھو ۔ نیکی حاصل کرنے کی فکر کرو کہ خدا تعالیٰ تمہیں آسمان پر دیکھ رہا ہے کہ تم اس پیغام کو سن کر کیا جواب دیتے ہو۔ اے مسلمانو ! جو اولوالعزم مومنوں کے آثار باقیہ ہو اور نیک لوگوں کی ذریت ہوا نکار اور بدظنی کی طرف جلدی نہ کرو اور اس خوفناک وبا سے ڈرو جو تمہارے اردگر پھیل رہی ہے اور بے شمار لوگ اس کے دام فریب میں آگئے ہیں۔ تم دیکھتے ہو کہ کس قدر زور سے دین اسلام کے مٹانے کے لئے کوشش ہو رہی ہے۔ کیا تم پر یہ حق نہیں کہ تم بھی کوشش کرو ۔ اسلام انسان کی طرف سے نہیں کہ تا انسانی کوششوں سے برباد ہو سکے مگر افسوس اُن پر ہے کہ جو اس کی بیخ کنی کے لئے در پے ہیں اور پھر دوسرا افسوس اُن پر ہے جو اپنی عورتوں اور اپنے بچوں اور اپنے نفس کی (۵۳) عیاشیوں کے لئے تو اُن کے پاس سب کچھ ہے مگر اسلام کے حصہ کا اُن کی جیب میں کچھ نہیں۔ کا ہلو تم پر افسوس ! کہ آپ تو تم اعلاء کلمہ اسلام اور دینی انوار کے دکھلانے کی کچھ قوت نہیں رکھتے مگر خدا تعالیٰ کے قائم کردہ کارخانہ کو بھی جو اسلام کی چمکار ظاہر کرنے کے لئے آیا ہے شکر کے ساتھ قبول نہیں کر سکتے ۔ آج کل اسلام اس چراغ کی طرح ہے جو ایک صندوق میں بند کر دیا جائے