فتح اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 20 of 748

فتح اسلام — Page 20

روحانی خزائن جلد ۳ فتح اسلام اپنا قدم رکھتے ہی اس مؤثر طریق کو ایسی مضبوطی اور استحکام سے رواج دیا ہے کہ اُس کی نظیر دوسرے مذہبوں میں ہرگز نہیں پائی جاتی۔ کون اس جماعت کثیر کا دوسری جگہ وجود دکھلا سکتا ہے (۳۲) جو تعداد میں دس ہزار سے بھی زیادہ بڑھ گئی تھی اور کمال اعتقاد اور انکسار اور جانفشانی اور پوری محویت سے سچائی کے حاصل کرنے اور راستی کے سیکھنے کے لئے آستانہ نبوی پر دن رات پڑی رہتی تھی بے شک حضرت موسیٰ کو بھی ایک جماعت ملی تھی مگر وہ کیسی اور کس قدر سرکش اور متمرد اور (۳۵) روحانی صحبت اور صدق قدم سے دور اور مہجور رہنے والی تھی اس بات کو بائبل کے پڑھنے والے بقیه حاشیه پڑتی ہے آج تک چل سکتا۔ افسوس ہزار افسوس اس زمانہ کے اکثر مولویوں پر کہ آتش حسد اندر ہی اندر اُن کو کھا گئی ہے۔ لوگوں کو تو ایمانی خصائل اور برادرانہ برتاؤ اور با ہم نیک ظنی کا ہمیشہ سبق دیتے ہیں اور منبروں پر چڑھ کر اس بارے میں کلام الہی کی آیات سناتے ہیں مگر آپ ان حکموں کو چھوتے بھی نہیں۔ اے حضرت خدا تعالیٰ آپ کی آنکھ کھولے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے کسی مہم بندہ کو کسی مصلحت کی وجہ سے ایک کام کرنے سے روک دیوے اور شاید اس روک کا دوسرا سبب یہ بھی ہوگا کہ تا آپ کی اندرونی خاصیوں کا امتحان ہو جائے اور جو لوگ آپ کے ہمرنگ اور آپ کے ہم ظرف ہیں اُن کے مواد خبیثہ بھی اس تقریب سے باہر نکل آویں۔ رہی یہ بات کہ آپکی عالمانہ عظمت اور ہیبت سے میں ڈر گیا تو اس کے جواب میں آپ یقیناً سمجھیں کہ جو لوگ تاریکی اور نفسانی ظلمتوں میں مبتلا ہیں اگر وہ دنیا کے تمام فلسفہ اور طبعی کے جامع بھی ہوں تب بھی میری نگاہ میں ایک مرے ہوئے کیڑے سے ان کی زیادہ وقعت نہیں۔ مگر آپ اُس مرتبہ علم کے آدمی بھی نہیں۔ صرف پورا نے خیالات کے ایک خشک ملا ہیں اور وہی کمینگی جو تاریک خیال ملاؤں میں ہوا کرتی ہے آپ کے اندر موجود ہے۔ اور آپ کو یاد رہے کہ اکثر میرے پاس ایسے محقق اور جامع فنون اور معلومات وسیع رکھنے والے آتے اور اسرار معارف سے فائدہ اُٹھاتے رہتے ہیں کہ اگر میں اُن کے مقابل پر آپکوطفل مکتب بھی کہوں تو اسقدر کلمہ سے بھی آپکو وہ عزت دُوں گا جس کے آپ مستحق نہیں۔ اب بھی اگر آپ کی قوت واہمہ فرو ہونے میں نہ آوے اور باطنی کے جذبات کم نہ ہوں تو پھر میں