فتح اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 748

فتح اسلام — Page 19

روحانی خزائن جلد ۳ 19 فتح اسلام وجی پا کر نمونہ کے طور پر دنیا میں آتے رہے ہیں اور یہ دونوں قضئے باہم لازم ملزوم ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کو ہمیشہ کے لیے اصلاح خلائق کی طرف توجہ ہے تو یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ ایسے لوگ بھی ہمیشہ کی لئے آتے رہیں کہ جن کو خدا تعالیٰ نے اپنی خاص توجہ سے بینائی بخشی ہو اور ﴿۳۲ اپنی مرضیات کی راہ پر ثابت قدم کیا ہو۔ بلاشبہ یہ بات یقینی اور امور مسلمہ میں سے ہے کہ یہ ہم عظیم اصلاح خلائق کی صرف کاغذوں کے گھوڑے دوڑانے سے رو براہ نہیں ہوسکتی۔ اسکے لئے اسی راہ پر قدم مارنا ضروری ہے جس پر قدیم سے خدا تعالیٰ کے پاک نبی مارتے رہے ہیں۔ اور اسلام نے (۳۳) بقیه حاشیه تحریر کر کے لوگوں میں پھیلایا۔ ذیل میں معہ اس کے جواب کے لکھتا ہوں ۔ قولہ میں نے اُن سے ( یعنی اس عاجز سے بمقام علی گڑھ ) کہا کہ کل جمعہ ہے وعظ فرمائیے۔ اس کا انہوں نے وعدہ بھی کیا مگر صبح کو رقعہ آیا کہ میں بذریعہ الہام وعظ کہنے سے منع کیا گیا ۔ میرا خیال ہے کہ بہ سبب عجز بیانی و خوف امتحانی انکار کر دیا۔ اقول مولوی صاحب کا یہ خیال بجز بد گمانی کے جو سخت ممنوعات شرعیہ میں سے ہے اور نیک سرشت آدمیوں کا کام نہیں اور کوئی اصلیت اور حقیقت نہیں رکھتا ۔ اگر میں صرف علی گڑھ میں آکر خاص اسی موقعہ پر الہام کا مدعی بنتا تو بیشک بدظنی کرنے کے لئے ایک وجہ ہو سکتی تھی (۳۱) اور بے شک خیال کیا جا سکتا تھا کہ میں مولوی صاحب کے علمی مرتبہ کی علوشان دیکھ کر اور اُن کے کمالات کی عظمت اور ہیبت سے متاثر ہو کر گھبرا گیا اور عذر پیش کرنے اور ایک حیلہ تراشنے سے اپنا پیچھا چھڑا یا لیکن میں تو اس دعوئے الہام کوعلی گڑھ کے سفر سے چھ سات سال پہلے تمام ملک میں شائع کر چکا ہوں اور براہین احمدیہ کے اکثر مقامات اس سے پُر ہیں۔ اگر میں تقریر کرنے سے عاجز ہوتا تو وہ کتابیں جو میری طرف سے تقریری طور پر عین مجلس میں اور ہزار ہا موافقین اور مخالفین کے جلسہ میں قلمبند ہو کر شائع ہوئی ہیں جیسے سرمہ چشم آریہ وہ کیوں کر میری ایسی ضعیف قوت ناطقہ سے نکل سکتی تھیں اور کیوں کر یہ میرا عالی شان سلسلہ زبانی تقریروں کا جس میں ہزاروں مختلف طبع اور استعداد آدمیوں کیساتھ ہمیشہ مغز خواری کرنی