فتح اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 748

فتح اسلام — Page 8

روحانی خزائن جلد۳ فتح اسلام رک نہیں سکتا کہ میں وہی ہوں جو وقت پر اصلاح خلق کے لئے بھیجا گیا تا دین کو تازہ طور پر دلوں میں قائم کر دیا جائے۔ میں اس طرح بھیجا گیا ہوں جس طرح سے وہ شخص بعد کلیم اللہ مرد خدا کے بھیجا گیا تھا جس کی روح ہیرو ڈلیس کے عہد حکومت میں بہت تکلیفوں کے بعد آسمان کی طرف اٹھائی گئی۔ سو جب دوسرا کلیم اللہ جو حقیقت میں سب سے پہلا اور سید الانبیاء ہے دوسرے فرعونوں کی سرکوبی کے لئے آیا جس کے حق میں ہے اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمُ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا تو اس کو 1) ابھی جو اپنی کارروائیوں میں کلیم اقول کا مثیل مگر رتبہ میں اس سے بزرگ تر تھا ایک مثیل امسیح کا وعدہ دیا گیا اور وہ مثیل اسیح قوت اور طبع اور خاصیت مسیح ابن مریم کی پاکر اسی زمانہ کی مانند اور اس مدت کے قریب قریب جو کلیم اول کے زمانہ سے مسیح ابن مریم کے زمانہ تک تھی یعنی چودھویں صدی میں آسمان سے اُترا اور وہ اُتر نا روحانی طور پر تھا جیسا کہ مکمل لوگوں کا صعود کے بعد خلق اللہ کی اصلاح کے لئے نزول ہوتا ہے اور سب باتوں میں اُسی زمانہ کے ہم شکل زمانہ میں اُترا جو مسیح ابن مریم کے اترنے کا زمانہ تھا تا سمجھنے والوں کے لئے نشان ہو۔ پس ہر ایک کو چاہیے کہ اس سے انکار کرنے میں جلدی نہ کرے ۱۲ ☆ ☆ یہ زمانہ جس میں ہم ہیں یہ ایک ایسا زمانہ ہے کہ ظاہر پرستی اور روح اور حقیقت سے دوری اور دیانت اور امانت سے محرومی اور سچائی اور اخلاقی پاکیزگی سے مہجوری اور لالچ اور بخل اور حب دنیا سے معموری اس زمانہ میں عام طور پر ایسی ہی پھیل گئی ہے کہ جیسے حضرت مسیح ابن مریم کے ظہور کے وقت یہودیوں میں پھیلی ہوئی تھی۔ پس جیسے یہودی لوگ اُس زمانہ میں بکلی حقیقی نیکی سے بے خبر ہو گئے تھے۔ صرف رسوم اور عادات کو نیکی سمجھتے تھے اور علاوہ اس کے دیانت اور امانت اور اندرونی صفائی اور عدالت اُن میں سے بالکل اٹھ گئی تھی۔ سچی ہمدردی اور سچے رحم کا نام ونشان نہیں رہا تھا اور انواع اقسام کی مخلوق پرستی نے معبود حقیقی کی جگہ لے لی تھی۔ ایسا ہی اس زمانہ میں یہ تمام بلائیں ظہور میں آگئی ہیں۔ حلال چیزوں کو شکر اور مشکورانہ فروتنی کے ساتھ استعمال نہیں کیا جاتا۔ المزمل : ١٦