فتح اسلام — Page 7
روحانی خزائن جلد۳ فتح اسلام بلکہ ہزار دور ہزار شکر کا مقام اور ایمان اور یقین کے بڑھانے کا وقت ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے وعدہ کو پورا کر دیا اور اپنے رسول کی پیشگوئی میں ایک منٹ کا بھی فرق (۹) پڑنے نہیں دیا اور نہ صرف اس پیشگوئی کو پوری کر کے دکھلایا بلکہ آئندہ کے لئے بھی ہزاروں پیشگوئیوں اور خوارق کا دروازہ کھول دیا۔ اگر تم ایماندار ہو تو شکر کرو اور شکر کے سجدات بجالاؤ (10) کہ وہ زمانہ جس کا انتظار کرتے کرتے تمہارے بزرگ آباء گزر گئے اور بیشمار روحیں اُس کے شوق میں ہی سفر کر گئیں وہ وقت تم نے پالیا۔ اب اس کی قدر کرنا یا نہ کرنا اور اس سے فائدہ اُٹھانا یا نہ اُٹھانا تمہارے ہاتھ میں ہے۔ میں اس کو بار بار بیان کروں گا اور اس کے اظہار سے میں مشائخ کا دستور ہورہا ہے سکھلانا یہ امورا ایسے نہیں ہیں جن کو کامل اور واقعی طور پر تجدید دین کہا جائے بلکہ مؤخر الذکر طریق تو شیطانی راہوں کی تجدید ہے اور دین کا رہزن ۔ قرآن شریف اور احادیث صحیحہ کو دنیا میں پھیلانا بے شک عمدہ طریق ہے مگر رسمی طور پر اور تکلف اور فکر اور خوض سے یہ کام کرنا اور اپنا نفس واقعی طور پر حدیث اور قرآن کا مورد نہ ہونا ایسی ظاہری اور بے مغز خدمتیں ہر ایک با علم آدمی کر سکتا ہے اور ہمیشہ جاری ہیں۔ ان کو مجددیت سے کچھ علاقہ نہیں یہ تمام امور خدا تعالیٰ کے نزدیک فقط استخوان فروشی ہے اس سے بڑھکر نہیں۔ اللہ جلشانہ فرماتا ہے لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ - كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللهِ أَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُونَ ، اور فرماتا ہے (۹) يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُم اندھا اندھے کو کیا راہ دکھا دے گا اور مجزوم دوسروں کے بدنوں کو کیا صاف کرے گا۔ تجدید دین وہ پاک کیفیت ہے کہ اول عاشقانہ جوش کے ساتھ اس پاک دل پر نازل ہوتی ہے کہ جو مکالمہ الہی کے درجہ تک پہنچ گیا ہو پھر دوسروں میں جلد یا دیر سے اس کی سرایت ہوتی ہے ۔ جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجددیت کی قوت پاتے ہیں وہ نرے استخوان فروش نہیں ہوتے بلکہ وہ واقعی طور پر نائب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور روحانی طور پر آنجناب کے خلیفہ ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ انہیں ان تمام نعمتوں کا وارث بناتا ہے جو نبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں اور ان کی باتیں از قبیل جوشیدن ہوتی ہیں نہ محض از قبیل کو شیدن ۔ اور وہ حال سے بولتے ہیں نہ مجرد قال سے ۔ اور خدا تعالی کے الہام کی تجلی ان کے دلوں پر ہوتی ہے اور وہ ہر ایک مشکل کے وقت روح القدس سے سکھلائے جاتے ہیں اور ان کی گفتار اور کردار میں ایک دنیا پرستی کی ملونی نہیں ہوتی کیونکہ وہ بکلی مصفا کئے گئے اور بتمام و کمال کھینچے گئے ہیں۔ منہ الصف :٤٣ المائدة : ١٠٦