دافع البَلاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 247 of 822

دافع البَلاء — Page 247

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۴۳ دافع البلاء حاشیه نمبرا چراغ دین کی نسبت میں یہ مضمون لکھ رہا تھا کہ تھوڑی سی غنودگی ہو کر مجھ کو خدائے عز وجل کی طرف سے یہ الہام ہوا۔ نزل به جبیز یعنی اس پر جبیز نازل ہوا اور اسی کو اس نے الہام یا رویا سمجھ لیا۔ جہیز در اصل خشک اور بے مزہ روٹی کو کہتے ہیں جس میں کوئی حلاوت نہ ہو اور مشکل سے حلق میں سے اتر سکے اور مرد بخیل اور ٹیم کو بھی کہتے ہیں جس کی طبیعت میں کمینگی اور فرومایگی اور بخل کا حصہ زیادہ ہو۔ اور اس جگہ لفظ جبیز سے مراد وہ حدیث النفس اور اور اضغاث الاحلام ہیں جن کے ساتھ آسمانی روشنی نہیں اور بخل کے آثار موجود ہیں اور ایسے خیالات خشک مجاہدات کا نتیجہ یا تمنا اور آرزو کے وقت القاء شیطان ہوتا ہے اور یا خشکی اور سوداوی مواد کی وجہ سے بھی الہامی آرزو کے وقت ایسے خیالات کا دل پر القاء ہو جاتا ہے اور چونکہ ان کے نیچے کوئی روحانیت نہیں ہوتی اس لئے الہی اصطلاح میں ایسے خیالات کا نام جبیز ہے اور علاج تو بہ اور استغفار اور ایسے خیالات سے اعراض کھی ہے۔ ورنہ جبیز کی کثرت سے دیوانگی کا اندیشہ ہے۔ خدا ہر ایک کو اس بلا سے محفوظ رکھے ۔ منہ حاشیه نمبر ۲ رات کو عین خسوف قمر کے وقت میں چراغ دین کی نسبت مجھے ۔ الہام ہوا انى اذيب من يریب ۔ میں فنا کر دوں گا ۔ میں غارت کروں گا۔ میں غضب نازل کروں گا اگر اس نے شک کیا اور اس پر ایمان نہ لایا اور رسالت اور مامور ہونے کے دعوے سے تو بہ نہ کی ۔ اور خدا کے انصار