دافع البَلاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 822

دافع البَلاء — Page 246

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۴۲ دافع البلاء اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوسرا کوئی مامور اور رسول نہیں تھا۔ اور تمام صحابہ ۲۲ ایک ہی ہادی کے پیرو تھے۔ اسی طرح اس جگہ بھی ایک ہی ہادی کے سب پیر و ہیں۔ کسی کو دعوی نہیں پہنچتا کہ وہ نعوذ باللہ رسول کہلاوے۔ اور ہمارا آنا صرف دو فرشتوں کے ساتھ نہیں بلکہ ہزاروں فرشتوں کے ساتھ ہے اور خدا کے نزدیک وہ لوگ قابل تعریف ہیں جو سالہائے دراز سے میری نصرت میں مشغول ہیں اور میرے نزدیک اور میرے خدا کے نزدیک ان کی نصرت ثابت ہو چکی ہے۔ مگر چراغ دین نے کونسی نصرت کی اس کا تو وجود اور عدم برابر ہے۔ قریباً تمیں سال سے یہ سلسلہ جاری ہے مگر اس نے تو صرف چند ماہ سے پیدائش کی ہے اور میں اس کی شکل بھی اچھی طرح شناخت نہیں کر سکتا کہ وہ کون ہے۔ اور نہ وہ ہماری صحبت میں رہا۔ اور میں نہیں جانتا کہ وہ کس بات میں مجھے مدد دینا چاہتا ہے۔ کیا عربی نویسی کے نشان میں یا معارف قرآنی کے بیان میں میر امددگار ہوگا یا ان مباحث دقیقہ میں میری اعانت کرے گا جو طبعی اور فلسفہ کے رنگ میں عیسائیوں اور دوسرے فرقوں سے پیش آتے ہیں؟ میں تو جانتا ہوں کہ وہ ان تمام کو چوں سے محروم ہے اور نفس امارہ کی غلطی نے اس کو خودستائی پر آمادہ کیا ہے۔ پس آج کی تاریخ سے وہ ہماری جماعت سے منقطع ہے جب تک کہ مفصل طور پر اپنا تو بہ نامہ شائع نہ کرے اور اس ناپاک رسالت کے دعوے سے ہمیشہ کے لئے مستعفی نہ ہو جائے۔ افسوس کہ اس نے بے وجہ اپنی تعلمی سے ہمارے بچے انصار کی جنگ کی اور عیسائیوں کے بد بودار مذہب کے مقابل پر اسلام کو ایک برابر درجہ کامذہب سمجھ لیا۔ سو ہم کو ایسے شخص کی کچھ پروا نہیں۔ ایسے لوگ ہمارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے اور نہ نفع پہنچا سکتے ہیں۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ ایسے انسان سے قطعا پر ہیز کریں۔ اس کی تحریروں سے ہمیں پوری واقفیت نہیں تھی اس لئے اجازت طبع دی تھی۔ اب ایسی تحریروں کو چاک کرنا چاہیے۔ والسلام على من اتبع الهدى المشتہر خاکسار میرزا غلام احمد از قادیاں تعداد اشاعت ۵۰۰۰ ۲۳ را پریل ۱۹۰۲ء مطبع ضیاء الاسلام قادیان