چشمۂ مسیحی — Page 388
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۸۴ چشمه مسیحی کہلا سکتا ہے ۔ افسوس ان لوگوں پر کہ ان لوگوں کے آگے تمام برکات کا چشمہ کھولا گیا مگر یہ نہیں چاہتے کہ ایک گھونٹ بھی اس میں سے پئیں۔ اب پھر ہم پہلے کلام کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ نجات کا سرچشمہ جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں محبت اور معرفت ہے۔ اور معرفت ایک ایسی چیز ہے کہ جس قدر معرفت زیادہ ہوتی ہے اسی قدر محبت بھی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ محبت کے جوش مارنے کا باعث حسن یا احسان ہے ۔ یہ دونوں چیزیں ہیں جن کی وجہ سے محبت جوش مارتی ہے۔ 1) پس جبکہ انسان کو خدا تعالیٰ کے حسن اور احسان کا علم ہوتا ہے اور وہ اس بات کا مشاہدہ کر لیتا ہے کہ وہ ہمارا خدا اپنی نا محدود ذاتی خوبیوں کی وجہ سے کیسا حسین ہے اور پھر کس طرح پر اس کے نامتنا ہی احسان ہم پر احاطہ کر رہے ہیں تو اس علم کے بعد بالطبع انسان کی وہ محبت جو ازل سے اس کی فطرت میں مرکوز ہے جوش مارتی ہے اور جیسا کہ خدا تعالیٰ سب سے زیادہ جمال با کمال سے متصف اور متواتر احسان اور فیضان کی صفت سے موصوف ہے ایسا ہی بندہ جو اس کا طالب ہے بعد معرفت ان صفات کے اس سے ایسی محبت کرتا ہے کہ کسی کو اس کا ثانی نہیں سمجھتا۔ تب نہ صرف زبان سے بلکہ عملی طور پر ہے جیسا کہ ہم بار بار لکھ چکے ہیں معرفت تامہ جناب الہی کی بجز وحی الہی اور مکالمہ اور مخاطبہ حضرت احدیت اور ایسے عظیم الشان نشانوں کے جو وحی الہی کے ذریعہ سے ظاہر ہوں اور خدا تعالی کی اس قدرت پر دلالت کریں جو اس کی الوہیت اور جبروت کا کھلا کھلا نشان ہو حاصل نہیں ہو سکتی وہی معرفت ہے جس کے حق کے طالب بھوکے اور پیاسے ہوتے ہیں۔ وہی معرفت ہے جس کے پانے کے بغیر وہ مرہی جاتے ہیں۔ پس کیا وہ معرفت اسلام میں موجود نہیں ۔ اور کیا اسلام ایک خشک اور مُردہ مذہب ہے ۔ لعنة الله على الكاذبين ۔ بلکہ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو زندہ ہے اور اپنے پیر و کو زندگی بخشتا ہے۔ وہی ہے جو اسی دنیا میں ہمیں خدا دکھلا دیتا ہے اس کی