چشمۂ مسیحی — Page 387
روحانی خزائن جلد ۲۰ ٣٨٣ چشمه مسیحی تو پھر سننے پر بھی کوئی دلیل نہیں۔ خدا تعالیٰ کی صفات کو معطل کرنے والے سخت بد قسمت لوگ ہیں اور در حقیقت یہ لوگ اسلام کے دشمن ہیں۔ ختم نبوت کے ایسے معنے کرتے ہیں جس سے نبوت ہی باطل ہوتی ہے۔ کیا ہم ختم نبوت کے یہ معنے کر سکتے ہیں کہ وہ تمام برکات جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے ملنی چاہئیں تھے وہ سب بند ہو گئے اور اب خدا تعالیٰ کے مکالمہ مخاطبہ کی خواہش کرنا لا حاصل ہے۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین ۔ کیا یہ لوگ بتلا سکتے ہیں کہ اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا فائدہ کیا ہوا۔ جن لوگوں (۶۸) کے ہاتھ میں بجز گذشتہ قصوں کے اور کچھ نہیں اُن کا مذہب مردہ ہے اور معرفت الہی کا اُن پر دروازہ بند ہے مگر اسلام مذہب زندہ ہے اور خدا تعالیٰ قرآن شریف میں مسلمانوں کو سورہ فاتحہ میں گذشتہ نبیوں کا وارث ٹھہراتا ہے اور دعا سکھلاتا ہے کہ جو پہلے نبیوں کو نعمتیں دی گئی تھیں وہ طلب کریں مگر جس کے ہاتھ میں صرف قصے ہیں وہ کیوں کر وارث بقیه حاشیه کے رو سے خدا تعالیٰ عیسی کو ایسے عذر باطل کا یہ جواب دے سکتا ہے کہ تو میرے سامنے جھوٹ کیوں بولتا ہے کہ مجھے کچھ بھی خبر نہیں کیونکہ تو تو دوبارہ دنیا میں گیا تھا اور دنیا میں چالیس برس تک رہا تھا اور نصاری سے لڑائیاں کی تھیں اور صلیب کو تو ڑا تھا۔ ماسوا اس کے ان معنوں کے رُو سے یہ لازم آتا ہے کہ جب تک حضرت عیسی زندہ رہے عیسائی نہیں بگڑے بلکہ اُن کی موت کے بعد بگڑے پس اس سے تو ان لوگوں کو ماننا پڑتا ہے کہ عیسائی اب تک حق پر ہیں کیونکہ اب تک حضرت عیسی (۶۹) آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ افسوس! ندامت سے مرجاؤ! اور بالآخر یادر ہے کہ اگر ایک اُمتی کو جو محض پیروی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے درجہ وحی اور الہام اور نبوت کا پاتا ہے نبی کے نام کا اعزاز دیا جائے تو اس سے مہر نبوت نہیں ٹوتی کیونکہ وہ امتی ہے اور اس کا اپنا وجود کچھ نہیں اور اس کا کمال نبی متبوع کا کمال ہے اور وہ صرف نبی نہیں کہلاتا بلکہ نبی بھی اور اُمتی بھی مگر کسی ایسے نبی کا دوبارہ آنا جو اُمتی نہیں ہے ختم نبوت کے منافی ہے ۔ منہ