چشمۂ مسیحی — Page 366
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۶۲ چشمه مسیحی پر میٹر سے ایسی بے تعلق ہیں کہ اگر اس پر میشر کا مرنا بھی فرض کر لیں تو ان چیزوں کا کچھ بھی حرج نہیں کیونکہ جس حالت میں پر میشر ان قوتوں اور طاقتوں کا پیدا کرنے والا نہیں تو وہ چیزیں اپنی بقاء میں بھی پر میشر کی محتاج نہیں جیسا کہ اپنے پیدا ہونے میں محتاج نہیں اور خدا تعالیٰ کے دو نام ہیں۔ ایک حی دوسرے قیوم۔حي کے یہ معنے ہیں کہ خود بخودزندہ اور دوسری چیزوں کو زندگی بخشنے والا ۔ اور قیوم کے یہ معنے ہیں کہ اپنی ذات میں آپ قائم (۳۷) اور اپنی پیدا کردہ چیزوں کو اپنے سہارے سے باقی رکھنے والا ۔ پس خدا تعالیٰ کے نام قیوم سے وہ چیز فائدہ اُٹھا سکتی ہے جو پہلے اس سے اس کے نام حسی سے فائدہ اُٹھا چکی ہو کیونکہ خدا تعالیٰ اپنی پیدا کردہ چیزوں کو سہارا دیتا ہے۔ نہ ایسی چیزوں کو جن کے وجود اور ہستی کو اس کا ہاتھ ہی نہیں چھوا۔ پس جو شخص خدا تعالیٰ کو حسی یعنی پیدا کرنے والا مانتا ہے اُسی کا حق ہے کہ اس کو قیوم بھی مانے یعنی اپنی پیدا کردہ کو اپنی ذات سے سہارا دینے والا لیکن جو شخص خدا تعالیٰ کو حسی یعنی پیدا کرنے والا نہیں جانتا اس کا حق نہیں ہے کہ اس کی نسبت یہ اعتقاد ر کھے کہ وہ ان چیزوں کو ان کے رہنے میں سہارا دینے والا ہے کیونکہ سہارا دینے کے یہ معنے ہیں کہ اگر اس کا سہارا نہ ہو وہ چیزیں معدوم ہو جائیں اور ظاہر ہے کہ جن چیزوں کا اس کی طرف سے وجود نہیں وہ چیزیں اپنے بقائے وجود میں اس کی محتاج بھی نہیں ہو سکتیں۔ اور اگر وہ بقائے وجود میں محتاج ہیں تو اس وجود کی پیدائش میں بھی محتاج ہیں۔ غرض خدا تعالیٰ کے یہ دونوں اسم حتی و قیوم اپنی تاثیر میں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں کبھی علیحدہ علیحدہ نہیں ہو سکتے۔ پس جن لوگوں کا یہ مذہب ہے کہ خدا روحوں اور ذرات کا پیدا کرنے والا نہیں وہ اگر عقل اور سمجھ سے کچھ کام لیں تو اُن کو اقرار کرنا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ ۳۸) ان چیزوں کا قیوم بھی نہیں یعنی وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ خدا تعالیٰ کے سہارے سے ذرات یا ارواح پیدا ہوئے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے سہارے کی محتاج وہ چیزیں ہیں جو اس کی پیدا کردہ ہیں۔ غیر کو جو اپنے وجود میں اس کا محتاج نہیں اس کے سہارے کی کیوں حاجت پڑ گئی؟ یہ دعویٰ