چشمۂ مسیحی — Page 349
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۴۵ چشمه مسیحی اور وہیں فوت ہوئے ہیں پھر تعلیم کا یہ حال ہے کہ قطع نظر اس سے کہ اس پر چوری کا الزام لگایا گیا ہے انسانی قومی کی تمام شاخوں میں سے صرف ایک شاخ حلم اور درگز ر پر انجیل کی تعلیم زور دیتی ہے اور باقی شاخوں کا خون کیا ہے حالانکہ ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ جو کچھ انسان کو قدرت قادر نے عطا کیا ہے کوئی چیز اس میں سے بیکار نہیں ہے۔ اور ہر ایک انسانی قوت اپنی اپنی جگہ پر عین مصلحت سے پیدا کی گئی ہے اور جیسے کسی وقت اور کسی محل پر علم اور درگز رعد و اخلاق میں سے سمجھے جاتے ہیں ایسا ہی کسی وقت غیرت اور انتقام اور مجرم کو سزا دینا اخلاق فاضلہ میں سے شمار کیا جاتا ہے ۔ نہ ہمیشہ درگز ر اور عفو قرین مصلحت ہے اور نہ ہمیشہ سزا۔ اور انتقام مصلحت کے مطابق (1) ہے یہی قرآنی تعلیم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جَزْؤُا سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ یعنی بدی کی جزا اسی قدر ہے جس قدر ہ جو لوگ مسلمان کہلا کر حضرت عیسی کو مع جسم عصری آسمان پر پہنچاتے ہیں وہ قرآن شریف کے برخلاف ایک لغو بات منہ پر لاتے ہیں۔ قرآن شریف تو آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى سے میں حضرت عیسی کی موت ظاہر کرتا ہے اور آیت قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا زَ سُوْلًا “ میں انسان کا مع جسم عنصری آسمان پر جانا ممتنع قرار دیتا ہے۔ پھر یہ کیسی جہالت ہے کہ کلام الہی کے مخالف عقیدور کھتے ہیں۔ ترقی کے یہ معنی کرنا کہ مع جسم عنصری آسمان پر اُٹھائے جانا اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہیں ہوگی۔ اول تو کسی کتاب لغت میں توفی کے یہ معنی نہیں لکھے کہ مع جسم عصری آسمان پر اُٹھایا جانا ۔ پھر ما سوا اس کے جبکہ آیت فَلَمَّا تو فیتنی قیامت کے متعلق ہے یعنی قیامت کو حضرت عیسی خدا تعالیٰ کو یہ جواب دیں گے تو اس سے لازم آتا ہے کہ قیامت تو آجائے گی مگر حضرت عیسی نہیں مریں گے اور مرنے سے پہلے ہی مع جسم عصری خدا کے سامنے پیش ہو جائیں گے ۔ قرآن شریف کی یہ تحریف کرنا یہودیوں سے بڑھ کر قدم ہے۔ منہ الشورى: ۴۱ المائدة: ۱۱۸ بنی اسرآئیل: ۹۴