چشمۂ مسیحی — Page 348
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۴۴ چشمه مسیحی کا خدا بنا باطل کر کے دکھلا دیا ۔ صلیبی عقیدہ کو پاش پاش کر دیا اور انجیل کی وہ تعلیم جس پر عیسائیوں کو ناز تھا نہایت درجہ ناقص اور نکتا ہونا اس کا بپایہ ثبوت پہنچا دیا ۔ تو پھر عیسائیوں کا جوش ضرور نفسانیت کی وجہ سے ہونا چاہئے تھا۔ پس جو کچھ وہ افتر ا کریں تھوڑا ہے جو شخص مسلمان ہو کر پھر عیسائی بنا چاہے اُس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کوئی ماں کے پیٹ سے پیدا ہو کر اور بالغ ہو کر پھر یہ چاہے کہ ماں کے پیٹ میں داخل ہو جائے اور وہی نطفہ بن جائے جو پہلے تھا۔ مجھے تعجب ہے کہ عیسائیوں کو کس بات پر ناز ہے۔ اگر ان کا خدا ہے تو وہ وہی ہے جو مدت ہوئی کہ مرگیا اور سری نگر محلہ خان یا رکشمیر میں اس کی قبر ہے اور اگر اس کے معجزات ہیں تو وہ دوسرے نبیوں سے بڑھ کر نہیں ہیں بلکہ الیاس نبی کے معجزات اس سے بہت زیادہ ہیں۔ اور بموجب بیان یہودیوں کے اس سے کوئی معجزہ نہیں ہوا محض فریب اور مکر تھا۔ اور پیشگوئیوں کا یہ حال ہے جوا کثر جھوٹی نکلی ہیں۔ کیا باراں حواریوں کو وعدہ کے موافق باراں تخت بہشت میں نصیب ہو گئے کوئی پادری صاحب تو جواب دیں؟ کیا دنیا کی بادشاہت حضرت عیسی کو اُن کی اپنی پیشگوئی کے موافق مل گئی جس کے لئے ہتھیار بھی خریدے گئے تھے کوئی تو بولے؟ اور کیا اسی زمانہ میں حضرت مسیح اپنے دعوے کے موافق آسمان سے اتر آئے؟ میں کہتا ہوں اُترنا کیا اُن کو تو آسمان پر جانا ہی نصیب نہیں ہوا۔ یہی رائے یورپ کے محقق علماء کی بھی ہے بلکہ وہ صلیب پر سے نیم مردہ ہو کر بچ گئے اور پھر پوشیدہ طور پر بھاگ کر ہندوستان کی راہ سے کشمیر میں پہنچے۔ یہودیوں کے اس بیان کی خود حضرت مسیح کے قول میں تائید پائی جاتی ہے کیونکہ حضرت مسیح انجیل میں فرماتے ہیں کہ اس زمانہ کے حرامکار مجھ سے نشان مانگتے ہیں ان کو کوئی نشان نہیں دکھلایا جائے گا۔ پس ظاہر ہے کہ اگر حضرت عیسی نے کوئی معجزہ یہودیوں کو دکھلایا ہوتا تو ضرور وہ یہودیوں کی اس درخواست کے وقت ان معجزات کا حوالہ دیتے۔ منہ