چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 77 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 77

روحانی خزائن جلد ۲۳ 22 چشمه معرفت وقت تبلیغ عام کا دروازہ کھل گیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے بعد ﴿۲۹﴾ نزول اس آیت کے کہ قُلْ يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِلَى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کی طرف دعوت اسلام کے خط لکھے تھے کسی اور نبی نے غیر قوموں کے بادشاہوں کی طرف دعوت دین کے ہرگز خط نہیں لکھے کیونکہ وہ دوسری قوموں کی دعوت کے لئے مامور نہ تھے یہ عام دعوت کی تحریک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ہی شروع ہوئی اور مسیح موعود کے زمانہ میں اور اُس کے ہاتھ سے کمال تک پہنچی۔ جو کچھ قرآن شریف نے توحید کا تخم بلا د عرب، فارس، مصر، شام، ہند، چین، افغانستان، کشمیر وغیرہ بلاد میں بو دیا ہے اور اکثر بلاد سے بت پرستی اور دیگر اقسام کی مخلوق پرستی کا تم جڑھ سے اکھاڑ دیا ہے یہ ایک ایسی کارروائی ہے کہ اس کی نظیر کسی زمانہ میں نہیں پائی جاتی مگر بمقابل اس کے جب ہم وید کی طرف دیکھتے ہیں تو ثابت ہوتا ہے کہ وہ آریہ ورت کی بھی اصلاح نہیں کر سکا اور اس ملک کے انسانوں پر نیک اثر ڈالنے میں نہایت نکما ثابت ہوا ہے اور نہ صرف ہمارے اس زمانہ میں بلکہ اس ملک کی ایک لمبی تاریخ پر نظر ڈال کر ظاہر ہوتا ہے کہ کبھی اس ملک میں وید کے ذریعہ سے تو حید نہیں پھیلی بلکہ بجائے اُس کے نفع کے اُس کا ضرر قریباً تمام آرین لوگوں کو ہلاک کرتا رہا ہے اور جب وید کے پیر ولوگوں کے عقائد اور اعمال پر نظر ڈالی جاوے تو نہایت درد اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وید ایک گمراہ کرنے والی کتاب ہے۔ کون اس واقعہ سے انکار کر سکتا ہے کہ جس قدر مخلوق پرست فرقے ہندوؤں کے اس ملک میں پائے جاتے ہیں اور یا جس قدر نہایت گندے اور ناپاک مذہب اس ملک میں رائج ہو گئے ہیں جیسے شاکت مت وغیرہ وہ سب وید ہی کے ذریعہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اگر وید میں یہ لیاقت ہوتی کہ وہ کھلے کھلے طور پر بیان کرتا کہ سورج، چاند اور پانی اور آگ وغیرہ کی پرستش مت کرو اور بدکاری اور زنا کاری الاعراف : ۱۵۹