چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 78 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 78

روحانی خزائن جلد ۲۳۔ ZA چشمه معرفت کو اپنا مذہب مت بناؤ۔ تو کیوں آریہ قوم ساری کی ساری ان چیزوں کی پرستش میں مشغول ہو جاتی اور کیوں اس قدر بدکاری آریہ قوم میں پھیلتی مگر وید نے تو بجائے منع کرنے کے بیگا نہ عورتوں سے تعلق پیدا کرنے کی راہ بذریعہ نیوگ کھول دی اور سورج وغیرہ کی پرستش کی ترغیب دی اور جابجا اجرام سماوی اور عناصر کو معبود ٹھہرا کر ان کی مدح و ثنا کی ۔ اسی طرح جوالا مکھی کی آگ کے پجاری اور گنگا کے پرستار اور سورج کے آگے ہاتھ جوڑنے والے اس ملک میں کروڑ با شخص پیدا ہو گئے ۔ اگر کہو کہ ان کروڑ بہا لوگوں نے جن میں ہزار ہا پنڈت و عالم و فاضل ہیں وید کے معنی اچھی طرح نہیں سمجھے تو میں کہتا ہوں کہ اگر یہ عذر مان بھی لیں تب بھی دید کا ہی قصور ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس حالت میں اس کی عبارت غیر فصیح اور مہم اور مشتبہ اور معما کی طرح ماننی پڑتی ہے تبھی تو کئی کروڑ آریہ ورت کے پنڈتوں کو سمجھ نہ آسکی اور کروڑہا انسان وید کی نسبت یہی خیال کرتے گزر گئے کہ وہ مخلوق پرستی کی تعلیم دیتا ہے اور جب کہ بہتوں نے اس کے سمجھنے میں غلطی کھائی تو پھر کیونکر سمجھا جائے کہ ایک تھوڑا سا فرقہ آریوں کا کہ جو ان کے مقابل پر ایک ذرہ کے موافق بھی نہیں غلطی سے بچا رہا ہے۔ تم سچ کہو اور اپنے دھرم سے کہو کہ کیا وید میں کہیں لکھا ہے کہ سورج اور چاند اور ہوا اور اگنی اور جیل وغیرہ کی پوجامت کرو؟ اور بجز خدا کے جو غیب الغیب اور نہاں در نہاں ہے کسی کو اپنا معبود مت قرار دو اور جو چیزیں تمہیں آسمان پر یا زمین پر دکھائی دیتی ہیں وہ تمہارے خدا نہیں ہیں بلکہ خدا وہی ہے جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا۔ اگر کہیں لکھا ہے تو ہمیں بتاؤ لیکن قرآن شریف تو سارا اس بات سے بھرا پڑا ہے کہ بجز خدا کے کسی کی پرستش جائز نہیں بلکہ کلمہ لا اله الا اللہ کے ہی یہی معنے ہیں کہ تمہارا معبود بجز خدا کے اور کوئی نہیں اور یہ بھی قرآن شریف فرماتا ہے لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ یعنی نہ تم سورج کی پرستش کرو اور نہ چاند کی بلکہ اُس ذات کی پرستش کرو کہ جو ان سب چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے۔ اگر وید میں اس آیت کے ہم معنے کوئی شرتی ہوتی تو کروڑہا حم السجدة : ۳۸