چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 73

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۷۳ چشمه معرفت جاتا ہے کہ ابتدائے زمانہ میں یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ بجز خدا کے کسی نے افترا کے طور پر کتاب ۲۵ ) بنائی ہو کیونکہ اُس زمانہ میں بولی سکھلانے والا محض خدا تھا اُس کے سوا کوئی نہ تھا سو اُس نے و یدک سنسکرت سکھلائی اور ظاہر ہے کہ بغیر سکھلانے کے کوئی بولی یاد نہیں آسکتی۔ اگر کسی نوزاد بچہ کو کچھ بھی نہ سکھلایا جائے تو وہ گنگا رہ جاتا ہے۔ یہ عجیب دلیل ہے کہ جو آریہ مضمون سنانے والے نے پیش کی ہے کہ پہلے تو وہ لوگوں کو اس بات کے لئے مجبور کرتا ہے کہ تم بلا دلیل مان لو کہ ویدا بتدائے زمانہ کی کتاب ہے اور پھر اپنے مذکورہ بالا بیان کے ساتھ وید کو الہامی کتاب ٹھہراتا ہے۔ سواس کی یہ دلیل محض اس طور کی ہے کہ جیسے کوئی کہے کہ اول تم بلا دلیل اس بات کو مان لو کہ پنڈت دیا نند کے جسم پر پرندوں کی طرح پر بھی تھے جو عقاب کے پروں کی طرح نہایت قوی اور مضبوط تھے اور پھر ہم یہ بات ثابت کر دیں گے کہ آریہ ورت میں جس قدر اُس نے دورہ کیا اس تمام دورہ میں وہ ریل وغیرہ کا محتاج نہ تھا بلکہ پرواز کر کے ایک شہر سے دوسرے شہر تک جاتا تھا۔ افسوس یہ لوگ نہیں جانتے کہ ایک بلا دلیل دعوی پیش کر کے پھر اُسی دعوی کی بناء پر کوئی بکواس کر کے اُس کا نام دلیل رکھنا عقلمندوں کا کام نہیں سویا در ہے کہ پہلے تو یہی بار ثبوت آریہ صاحبوں کی گردن پر ہے کہ وہ وید کو ابتدائے آفرینش کی کتاب ثابت کریں اور پھر بعد اس کے کوئی بات کریں۔ اور پھر یہ کہنا کہ بغیر سکھلانے کے کوئی بولی یاد نہیں آسکتی۔ یہ امر بھی ہمو جب اصول آریہ کے پہلے زمانہ کے نیا جنم لینے والے لوگوں پر صادق نہیں آسکتا کیونکہ وہ اپنے مکتی کے زمانہ سے قریب العہد ہوتے ہیں اور تازہ بتازہ کئی خانہ سے باہر آتے ہیں اور چونکہ وہ ایسے گھر سے دنیا کی طرف آتے ہیں جس میں بقول آریہ سماج داخل ہونے والے پورے طور پر وید کی ہدایتوں کے پابند ہوتے ہیں اور ویدان کو کنٹھ ہوتا ہے اس لئے اُن کی نسبت یہ گمان نہیں ہو سکتا کہ وہ اُن بچوں کی طرح ہوں جو کئی لاکھ برس گذرنے کے بعد پیدا ہوتے ہیں