چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 69

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۶۹ چشمه معرفت ہے اور بعض ہندو سانپوں کی بھی پرستش کرتے ہیں اور ایک قسم کی نہایت گندی پوجا بھی کرتے 1 ہیں جس کو لنگ پوجا کہتے ہیں اور کا لیستھ قوم کے پڑھے لکھے ہند و قلم کی پوجا کرتے ہیں۔ ایسا ہی اور کئی قسم کی پوجا ہیں جو اس قوم میں پائی جاتی ہیں جیسا کہ ہندوؤں نے بہت سے دیوتا بھی بنارکھے ہیں کہ شاید تینتیس کروڑ یا اس سے بھی زیادہ ہیں ان سب کی پوجا ہوتی ہے اور اس میں صرف عوام ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے پنڈت اور عالم فاضل ہندو مذہب کے قریباً سب کے سب مخلوق پرست ہیں۔ یہ تو وہ اعمال ہیں جن میں خدا کا حق مخلوق کو دیا گیا ہے۔ ماسوا اس کے ہندوؤں میں قومی تفریق اس قدر ہے کہ ایک قوم دوسری قوم کو نہایت تحقیر سے دیکھتی ہے برادرانہ ہمدردی کا نام و نشان نہیں۔ ایک ہندو دوسرے ہندو کو بغیر سود کے قرضہ نہیں دے سکتا اور باہمی اختلاط کا یہ حال ہے کہ ایک ہندو دوسرے ہندو ادنی قوم کو کتے کی طرح سمجھتا ہے کیا مجال کہ اُس کا پس خوردہ کھا سکے بلکہ کتوں کے پس خوردہ میں بھی کچھ مضائقہ نہیں دیکھتے اور جواد فی ذات کے ہندو ہیں جیسے حجام ، نجار، زرگر و غیرہ وہ نہایت ذلیل سمجھے جاتے ہیں اور شاستروں کے رو سے اگر وہ برہمن کا مقابلہ کریں تو ان کی جان کی خیر نہیں اور اگر مقابلہ کے وقت کچھ بولیں تو اُن کی زبان کاٹ دی جاوے اور اگر برابری کریں تو جان سے مارے جائیں اور برہمنوں کو وہ حق دیئے گئے ہیں کہ دوسری قوموں کو وہ حق حاصل نہیں ہیں یہاں تک کہ نیوگ کے بیرج داتا بھی برہمن ہی قرار دیئے جاتے ہیں۔ یہ حکم ہے کہ اگر کسی کے گھر میں لڑکا پیدا نہ ہو تو وہ اپنی عورت کو برہمن سے ہم بستر کرادے اور وید کا پڑھنا پڑھانا بھی برہمنوں سے خاص ہے اگر دوسری قومیں وید کو پڑھیں تو اُن کے لئے سخت سزائیں مقرر ہیں ۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ تاوید بر ہمنوں کے ہی ہاتھ میں رہے اور وہ جو کچھ چاہیں بیان کر دیا کریں اور دوسرے لوگ اُن کی چالاکیوں پر اطلاع نہ پاویں بلکہ وہ سب ان کے دست نگر ر ہیں۔ پس وید کے اس نمونہ سے ظاہر ہے کہ ایک مدت گذرنے کے بعد کس قدر