چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 40 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 40

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۰ چشمه معرفت پہلے ہی سے دہریوں اور بے قید لوگوں کی نظر میں زیر مواخذہ ہیں تو کیا وید کا قصہ گوئی سے یہ مطلب ہے کہ اُسی زندان میں اپنے تئیں بھی ڈال دے جس میں دوسرے قصہ گو بھی پڑے ہوئے ہیں ۔ اے ہم وطن پیار وا یہ بُرا ماننے کی بات نہیں میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اسی نقصان سے جو وید میں پایا جاتا ہے۔ آریہ ورت کے لاکھوں ہندو جوجین مت وغیرہ ناموں سے اپنے تئیں منسوب کرتے ہیں خدا تعالیٰ کے وجود سے منکر ہو گئے کیونکہ انہوں نے خدا کے وجود اور اس کی صفات کی نسبت وید کی تعلیم سے کوئی تسلی نہیں پائی ۔ بعض پنڈتوں سے ہم نے خود سنا ہے کہ ہم نے چاروں وید پڑھے مگر ہمیں اب تک یقینی طور پر معلوم نہیں ہوا کہ کہیں وید میں خدا کا ذکر بھی ہے۔ بعض نے اس دعوی کی ذمہ واری اس قدر اپنے ذمہ قبول کر لی ہے کہ اگر وید میں کوئی خدا کا ذکر ثابت کر کے دکھلاوے تو ہم اُس کو اپنی لڑکی دینے کو تیار ہیں اور یہ عذر پیش کرنا فضول ہے کہ وید ابتدائے زمانہ کی کتاب ہے لہذا اُس وقت وید نے یہ غیر ضروری سمجھا کہ خدا کی ہستی اور اس کی صفات کا ملہ کا تازہ طور پر ثبوت دے اور اُس کے علم غیب اور دوسری صفات کے تازہ نمونہ دکھلاوے کیونکہ بلاشبہ جیسا کہ انسان اس زمانہ میں اس بات کا محتاج ہے کہ خدا کی صفات کے تازہ نمونے دیکھے اُس وقت بھی محتاج تھا کیونکہ انسان محض تاریکی میں پیدا ہوتا ہے اور پھر خدا کی کلام کے ذریعہ سے اُس کو روشنی ملتی ہے اور پھر اس دعوے کا ثبوت کہاں ہے کہ وید ابتدائی زمانہ کی کتاب ہے بلکہ خود وید سے پتہ ملتا ہے کہ مختلف زمانوں میں اس کا مجموعہ تیار ہوا ہے اور وہ در حقیقت بہت سے رشیوں کے اقوال ہیں نہ صرف چار کے چنانچہ سکتوں کے عنوان پر جا بجا یہ اشارہ پایا جاتا ہے۔ ماسوا اس کے پارسیوں کو اپنی کتاب کی قدامت کی نسبت آریوں سے بڑھ کر دعوئی ہے۔ پس ان غیر مثبت دعووں کو پیش کرنا جائے شرم ہے۔ اوّل آریوں کو یہ چاہیے کہ کسی عدالت میں پارسیوں پر نالش کر کے ویدوں کی قدامت کی نسبت اپنے حق میں ڈگری کرالیں