چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 39

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۹ چشمه معرفت بیان نہیں فرما تا بلکہ نمونہ کے طور پر اپنا علم غیب ظاہر کرتا ہے اور اپنی ہر ایک صفت (۳۱) کا ثبوت دیتا ہے مگر دید صرف قصہ کے رنگ میں خدا کی صفات کا ذکر کرتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسے قصے اُس نے کسی دوسرے سے سنے ہیں اور اُن کی نقل کر دی ہے ۔ پس ایسی کتاب کسی انسان کو تازہ گیان اور تازہ معرفت نہیں بخش سکتی بلکہ اپنی مجبوری ظاہر کر کے رفتہ رفتہ ایسے لوگوں کو جو اُس کے پیرو ہیں دہریت کی طرف کھینچتی ہے اور انجام کا ر ا پنا در ماندہ ہونا دکھلا کر اُن کے معمولی ایمان کے لئے بھی ہم قاتل ہو جاتی ہے کیونکہ آخر کا ر اُن کے ذہن اس طرف منتقل ہو جاتے ہیں کہ اگر مثلاً پر میشر عالم الغیب ہوتا تو اس کا بیان عالم الغیب ہونے کے بارہ میں صرف قصہ کے طور پر نہ ہوتا بلکہ وہ اپنے علم غیب کا کوئی نمونہ پیش کرتا ۔ کیا وید کا پرمیشر صرف قصوں کے رنگ میں اپنی صفات پیش کر کے یہ امید رکھتا ہے کہ اُس کی اُن بے ثبوت صفات کو مان لیا جاوے اور بغیر کسی پیش کردہ دلیل کے اُس کو عالم الغیب سمجھ لیا جائے یا ایسا ہی دوسری صفات اُس کی تسلیم کر لی جائیں ۔ خدا کی کتاب کا تو یہ مقصد ہونا چاہیے کہ انسان کے معمولی علم سے جو خدا تعالیٰ اور اُس کی صفات کی نسبت محض قصوں کے رنگ میں ہے ترقی دے کر یقینی علم تک اُس کو پہنچا وے نہ کہ وہ علم ناقص جو انسانوں کو پہلے ہی سے حاصل ہے وہی اس کے سامنے پیش کرے۔ خصوصاً اس زمانہ میں جب کہ عام حالت اکثر انسانوں کی دہریت تک پہنچ گئی ہے ایسی قصہ گوئی بجز اس کے کیا فائدہ دے سکتی ہے کہ دہر یہ طبع لوگ اور بھی اُس پر ہنسی ٹھٹھا کریں ۔ ہر ایک واقف کار جانتا ہے کہ آجکل خدا تعالیٰ کے وجود کے بارے میں نہایت تیز مخالفت کی گئی ہے اور اُس کی ہستی کی نسبت ہزار ہا اعتراض اٹھائے گئے ہیں پس اس زمانہ میں وہی خدا کی کتاب بگڑی ہوئی طبیعتوں کو سیدھا کر سکتی ہے کہ اس بھڑکتی ہوئی آگ پر اپنے زبر دست نشانوں کے ساتھ پانی کا کام دے۔ جب کہ صرف قصے