چشمہٴ معرفت — Page 29
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۹ اس کا جو دو احسان ہے کسی حق کے ادا کرنے کے لئے نہیں۔ واضح ہو کہ وہ تعلیم جو وید کی طرف منسوب کی جاتی ہے بڑی بھاری غلطی اُس کی یہی ہے کہ پر میشر کو صرف ایک منصف تصور کر کے مخلوقات کے حقوق کا اُس کے سر پر بوجھ ڈالا گیا ہے اور دوسری طرف خواہ نخواہ یہ قرار دیا گیا ہے کہ مخلوقات بھی اپنے حق سے زیادہ کسی عطا اور جود کی مستحق نہیں ہے۔ یہ ہے ویدو دیا جس پر آریوں کو بڑا ناز ہے۔ ایک قدیم زمانہ وید کا جو اس کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اگر فرض بھی کر لیں کہ وہ اتنا لمبا زمانہ ہے جیسا کہ آریوں نے بغیر کسی قطعی دلیل کے خیال کیا ہے تب بھی وید بموجب نمونہ پیش کردہ آریوں کے ایک ایسے لمبے اور اونچے پہاڑ سے مشابہ ہو گا جس میں سے کوئی قسم جواہرات کی کبھی نہیں نکلی اور بہت کھود نے کے بعد آخر نکلا تو ایک چوہا نکلا۔ افسوس اگر وید خدا تعالیٰ کو در حقیقت ارواح کا خالق تسلیم کرتا تو یہ غلطی کبھی واقع نہ ہوتی کیونکہ اس صورت میں واقعی طور پر ماننا پڑتا ہے کہ پر میشر روحوں کا مالک ہے اور جب کہ مالک ہے تو اُس کے مقابل پر کسی کو دعویٰ نہیں پہنچتا کہ اُس سے اپنے کسی حق کا مطالبہ کرے کیونکہ پیدا کردہ پیدا کنندہ کی ایک ملکیت ہے اور در حقیقت مکتی کے مسئلہ میں یعنی نجات کے بارہ میں جو کچھ آریوں نے غلطیاں کھائی ہیں وہ بھی اسی بنا پر ہیں مثلاً وہ دائمی نجات کے قائل نہیں ہیں اور ان کو سخت مجبوری کی وجہ سے ماننا پڑتا ہے کہ ایک مدت مقررہ کے بعد پر میشر اپنے بندوں کو گوویدوں کے رشی ہی کیوں نہ ہوں مکتی خانہ سے باہر نکال دیتا ہے اور نا کردہ گناہ طرح طرح کی جونوں میں ڈال دیتا ہے اور ساتھ اس کے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پر میشر اس مجبوری سے کہ ایک مدت کے بعد روحوں کو مکتی خانہ سے باہر نکالنا ضروری ہے بہانہ جوئی کے طور پر ایک ذرہ گناہ اُن کا باقی رکھ لیتا ہے اور وہی الزام