چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 28

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۸ چشمه معرفت ۲۰ وہ انعام اکرام جو بنام نہاد یا داش اعمال حسنہ انسان کو عطا ہوتا ہے۔ پس جس خدا نے اپنی فیاضانہ مالکیت کا وہ نمونہ دکھلایا کہ عاجز بندوں کے لئے زمین و آسمان اور چاند سورج وغیرہ بنا دیئے اُس وقت میں جبکہ بندوں اور اُن کے اعمال کا نام ونشان نہ تھا کیا اُس کی نسبت یہ گمان کر سکتے ہیں کہ وہ بندوں کا مدیون ہو کر صرف اُن کے حقوق ادا کرتا ہے اس سے بڑھ کر نہیں ؟ کیا بندوں کا کوئی حق تھا کہ وہ اُن کے لئے زمین و آسمان بناتا اور ہزاروں چمکتے ہوئے اجرام آسمان پر اور ہزار ہا آرام اور راحت کی چیزیں زمین پر مبیا کرتا ۔ پس اس فیاض مطلق کو محض ایک حج کی طرح فقط انصاف کرنے والا قرار دینا اور اس کے مالکانہ مرتبہ اور شان سے انکار کرنا کس قدر کفران نعمت ہے۔ اور اگر کہو کہ ہم اُس کو مالک سمجھتے ہیں تو اس کا یہی جواب ہے کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔ تم ہر گز اُس کو مالک نہیں سمجھتے۔ یہ صرف دکھانے کے دانت ہیں جو تم دکھلا رہے ہو۔ مالک اُسی کو کہتے ہیں کہ دونوں پہلوؤں سزا اور درگذر اور عطا اور ترک عطا پر قادر ہو۔ پس کہاں تم اپنے پر میٹر کو ایسا سمجھتے ہو بلکہ بقول تمہارے پر میشران دونوں پہلوؤں پر ہرگز قادر نہیں اور اس کی مخلوق اس سے اپنے حقوق کا ایسا ہی مطالبہ کر سکتی ہے جیسا کہ ایک قرض خواہ اپنے قرضدار سے۔ اور وہ کسی کا گناہ نہیں بخش سکتا اور جب تم نے اس کا نام بمقابلہ مخلوقات کے منصف رکھا تو بتلاؤ کہ منصف کے مفہوم میں یہ بات داخل ہے یا نہیں؟ کہ وہ لوگوں کے حقوق اپنے ذمہ تسلیم کرے اور ہر ایک فرد بشر اپنے حق واجب کا اُس سے مطالبہ کر سکے اور پھر اگر حقوق کو ادا نہ کرے تو ظالم کہلا دے۔ اور ظاہر ہے کہ جب یہ تسلیم کیا گیا کہ پر میشر کو اپنے بندوں کے مقابل پر منصف سے بڑھ کر اور کوئی حیثیت نہیں تو پھر پر میشر مخلوقات کا مالک نہ ٹھیرا کیونکہ جیسا کہ ہم کئی دفعہ بیان کر چکے ہیں مالک کے مقابل پر مملوک کا کوئی حق نہیں ہوتا لیکن ابھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ خدا کا مالک ہونا ثابت ہوتا ہے کیونکہ جو کچھ اُس نے ہزار ہا قسم کی نعمتیں انسان کو دی ہیں یہاں تک کہ زمین کی چیزیں اور آسمان کے روشن اجرام اس کے لئے بنائے ہیں یہ تمام