چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 420 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 420

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۲۰ چشمه معرفت چھوڑ دے اور اُس کے لئے تلخ زندگی اختیار کرے۔ جب اس نکتہ کمال تک پہنچ جائے گا تو بلا شبہ وہ نجات یافتہ ہے۔ اور اس مرتبہ محبت پر نہ کسی تناسخ کے چکر کی اُس کو حاجت ہے اور نہ اُس کو اپنے لئے کسی کو صلیب دینے کی ضرورت ہے اور اس مرتبہ محبت پر انسان صرف خیالی طور پر اپنے تئیں نجات یافتہ قرار نہیں دیتا بلکہ اندر ہی اندر وہ محبت اُس کو تعلیم دیتی ہے کہ خدا کی محبت تیرے ساتھ ہے اور پھر خدا کی محبت اُس کے شامل حال ہو کر ایک سکینت اور شانتی اُس کے دل پر نازل کرتی ہے اور خدا اوہ معاملات اُس سے شروع کر دیتا ہے جو خاص اپنے پیاروں اور مقبولوں سے کرتا آیا ہے یعنی اُس کی اکثر دعائیں قبول کر لیتا ہے اور معرفت کی باریک باتیں اُس کو سکھلاتا ہے اور بہت سی غیب کی باتوں پر اس کو اطلاع دیتا ہے اور اس کے منشاء کے مطابق دنیا میں تصرفات کرتا ہے اور عزت اور قبولیت کے ساتھ دنیا میں اُس کو شہرت دیتا ہے اور جو شخص اُس کی دشمنی سے باز نہ آوے اور اُس کے (۵۲) ذلیل کرنے کے درپے رہے آخر اس کو ذلیل کر دیتا ہے اور اس کی خارق عادت طور پر تائید کرتا ہے اور لاکھوں انسانوں کے دلوں میں اُس کی اُلفت ڈال دیتا ہے اور عجیب و غریب کرامتیں اُس سے ظہور میں لاتا ہے۔ اور محض خدا کے الہام سے لوگوں کے دلوں کو اُس کی طرف کشش ہو جاتی ہے تب وہ انواع و اقسام کے تحائف اور نقد اور جنس کے ساتھ اُس کی خدمت کے لئے دوڑتے ہیں اور خدا اُس سے نہایت لذیذ اور پُر شوکت کلام کے ساتھ مکالمہ مخاطبہ کرتا ہے جیسا کہ ایک دوست ایک دوست سے کرتا ہے وہ خدا جو دُنیا کی آنکھ سے مخفی ہے وہ اس پر ظاہر ہو جاتا ہے اور ہر ایک غم کے وقت اپنی کلام سے اُس کو تسلی دیتا ہے۔ وہ اُس سے سوال و جواب کے طور پر اپنے فصیح اور لذیذ اور پر شوکت کلام کے ساتھ باتیں کرتا ہے اور سوال کا جواب دیتا ہے اور جو باتیں انسان کے علم اور طاقت سے باہر ہیں وہ اُس کو بتلا دیتا ہے مگر نہ نجومیوں کی طرح بلکہ اُن مقتدر بادشاہوں کی طرح جن کی ہر