چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 400 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 400

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۰۰ چشمه معرفت اپنی کارگذاری صرف اس قدر پیش کرتی ہے جس قدر عقل سلیم پہلے سے پیش کر چکی ہے حالانکہ اس کتاب کا یہ فرض تھا کہ وہ انسانی کلام سے اپنا بر تر اور ممیز ہونا ثابت کرتی تا وہ یقینی معرفت کا ذریعہ ہو سکتی ۔ انسان الہامی کتاب کا محض اس لئے محتاج ہے کہ نظام عالم پر غور کر کے اور یہ دیکھ کر کہ بڑے بڑے اجرام کیسے با ہمی تعلقات سے اس دنیا کی گاڑی کھینچ رے ہیں کوئی ستارہ دوسرے سے روشنی حاصل کرتا ہے اور کوئی دوسرے کے گرد گھومتا ہے اور باوجود بے شمار مدتوں کے اُن میں کوئی خلل اور بگاڑ واقع نہیں ہوتا۔ انسانی عقل (۳۰) اس بات کے ماننے کے لئے مجبور ہو جاتی ہے کہ در پردہ کوئی ایسی بڑی طاقت ہوگی جس کے ارادہ اور حکم سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے پھر بھی اُس عقل نے کچھ دیکھا تو نہیں لہذا اُس کا زیادہ سے زیادہ تو یہ حق ہے کہ ان تصرفات پر غور کر کے یہ کہے کہ اُن کا کوئی صانع ہونا چاہیے نہ یہ کہ درحقیقت وہ صانع موجود بھی ہے اور ہونا چاہیے اور ہے میں وہ فرق ہے جو ظن اور یقین میں فرق ہوتا ہے اور الہامی کتاب کا یہ کام ہے کہ ہونا چاہیے کے مرتبہ سے ہے کے یقینی اور قطعی مقام تک پہنچاوے ۔ اور اگر وہی باتیں کرے کہ جس حد تک ایک عظمند انسان کر سکتا ہے تو ایسی کتاب کے الہامی ہونے پر کوئی یقینی اور قطعی دلیل قائم نہیں ہو سکتی ۔ اور اگر اُس کو الہامی مان بھی لیں تب بھی اُس کی تعلیم محض بے سود ہے کیونکہ وہ یقین کے اعلیٰ مرتبہ تک نہیں پہنچا سکتی ۔ یہ بات یادر ہے کہ الہامی کتاب میں الہی طاقت کا پایا جانا ضروری ہے اور اگر کسی کتاب میں حقائق معارف موجود ہوں اور عمدہ عمدہ گیان اور معرفت یا حکمت اور فلسفہ کی باتیں اُس میں پائی جائیں تو محض اس قدر بیانات سے وہ الہامی کتاب نہیں ٹھیر سکتی کیونکہ یہ سب باتیں انسانی قویٰ کے حلقہ کے اندر ہیں ۔ انسان کی تیزی ذہن