چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 399 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 399

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۹۹ چشمه معرفت معجزات کے ساتھ ہدایت دوں گا اور ان کو اس قسم کے جلالی معجزات کی پناہ میں لے آؤں گا جو کوہ طور پر دکھلائے گئے تھے ۔ سو جلالی معجزات وہی ہیں جن کا ظہور اس زمانہ میں شروع ہو گیا ہے جن کی اس بندہ کے ذریعہ سے خدا نے پہلے سے خبر دی تھی جیسا کہ ابھی ذکر ہو چکا ایسا ہی اُس نے اور بہت سے نشان میرے ہاتھ پر دکھلائے کہ اگر وہ سب کے سب لکھے جائیں تو ایک ضخیم کتاب میں بھی سمانہیں سکتے ۔ غرض خدا کے وہ جلالی معجزات اور وہ ہیبت ناک آیات اور وہ ڈرانے والی چمک جو کوہ طور پر ظاہر ہوئی تھی پھر اب دوبارہ وہی قہری نشان دنیا میں ظاہر ہو رہے ہیں چنانچہ طاعون تمام قوموں کو تباہ کر رہی ہے۔ زلزلے آ رہے ہیں اور ستارے ہیبت ناک آوازوں کے ساتھ ٹوٹتے ہیں اور وہ خدا جو غافلوں کی آنکھوں سے مخفی تھا اب وہ چاہتا ہے کہ کھلے طور پر اپنے تئیں دنیا پر ظاہر کرے۔ اب میں اصل مطلب کی طرف رجوع کر کے یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ ہم (۲۹) نے کس طرح شناخت کیا کہ قرآن شریف خدا کا کلام ہے۔ اے دوستو ! اس جگہ اول یہ بات بیان کرنے کے لائق ہے کہ خدا کے کلام میں یہ ضروری امر ہے کہ وہ انسانی کلام سے صریح ما بہ الامتیاز رکھتا ہو کیونکہ جس حد تک عقل سلیم خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفات کی طرف رہبری کرتی ہے اگر خدا تعالیٰ کا کلام بھی فقط اسی حد تک رہبری کرے اور کوئی زیادہ مرتبہ یقین اور معرفت کا عطا نہ کر سکے تو اُس کو انسانی عقل پر ترجیح کیا ہوئی ؟ اور اس صورت میں وہ کیونکر خدا کا کلام سمجھا جائے ۔ مثلا عقل سلیم باری تعالی کی ہستی پر صرف یہ دلائل پیش کرتی ہے کہ اس عالم کی ترتیب محکم اور نظام ابلغ پر نظر ڈال کر ماننا پڑتا ہے کہ ضرور اس عالم کا کوئی صانع ہو گا مگر عقل یہ نہیں دکھلا سکتی که در حقیقت وہ صانع موجود بھی ہے۔ پس اگر کوئی کتاب جس کو خدا کا کلام سمجھا جاتا ہے صرف اسی حد تک رہبری کرتی ہے جس حد تک عقل سلیم رہبری کرتی ہے تو وہ