چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 337 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 337

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۳۷ چشمه معرفت اُس کی زندگی میں ہی ۴ راگست ۱۹۰۸ء تک ہلاک ہو جاؤں گا ۔ اور یہ اُس کی سچائی کے لئے ایک نشان ہوگا ۔ یہ شخص الہام کا دعویٰ کرتا ہے اور مجھے دجال اور کافر اور کذاب قرار دیتا ہے۔ پہلے اُس نے بیعت کی اور برابر میں برس تک میرے مریدوں اور میری جماعت میں داخل رہا پھر ایک نصیحت کی وجہ سے جو میں نے محض اللہ اُس کو کی تھی مرتد ہو گیا۔ نصیحت یہ تھی کہ اُس نے یہ مذہب اختیار کیا تھا کہ بغیر قبول اسلام اور پیروی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نجات ہو سکتی ہے۔ گو کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی خبر بھی رکھتا ہو چونکہ یہ (۳۲) دعوی باطل تھا اور عقیدہ جمہور کے بھی بر خلاف اس لئے میں نے منع کیا مگر وہ باز نہ آیا آخر میں نے اُس کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا ۔ تب اُس نے یہ پیشگوئی کی کہ میں اُس کی زندگی میں ہی ۴ / اگست ۱۹۰۸ ء تک اُس کے سامنے ہلاک ہو جاؤں گا مگر خدا نے اُس کی پیشگوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور خدا اُس کو ہلاک کرے گا اور میں اُس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے بلا شبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے خدا اُس کی مدد کرے گا۔ یہ تو بطور نمونہ وہ نشان لکھے گئے ہیں جو دشمنوں کے متعلق تھے لیکن میں مناسب دیکھتا ہوں کہ کچھ نمونہ کے طور پر وہ نشان بھی لکھے جائیں کہ جو دوستوں کے متعلق ہیں اور وہ یہ ہیں ۔ ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ میرے ایک مخلص دوست ہیں جن کا نام ہے حافظ مولوی حکیم نورالدین اُن کا ایک بیٹا تھا وہ فوت ہو گیا ۔ تب ایک شریر دشمن نے اپنے ایک اشتہار کے ذریعہ سے اس لڑکے کی موت پر بڑی خوشی ظاہر کی اور مولوی صاحب ممدوح کا نام ابتر رکھا۔ میرا دل اس ایڈا سے سخت بے قرار ہو گیا میں نے بہت تضرع سے جناب الہی میں مولوی صاحب موصوف کے لئے دعا کی تب مجھے الہام ہوا کہ ایک لڑکا پیدا ہوگا اور